Friday, 05 October, 2007, 18:29 GMT 23:29 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد
صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف حکم امتناعی کے لیے دائر کی گئی درخواستوں پر سپریم کورٹ نے جو عبوری حکم جاری کیا ہے اس کو دونوں پارٹیاں اپنی کامیابی قرار دے رہی ہیں۔
اٹارنی جنرل ملک قیوم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں دائر ان آئینی درخواستوں پر فیصلہ پندرہ نومبر سے پہلے آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار صدارتی انتخابات کے شیڈول کو متاثر کرنا چاہتے تھے جس میں وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ بھی ہوگی اور صدارتی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج بھی آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف اُس وقت تک صدر رہیں گے جب تک نیا صدر حلف نہیں اُٹھا لیتا۔
دوسری جانب صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے وکیل حامد خان نے کہا کہ ’ہم نے ایک غاصب کا راستہ روک دیا، ہمیں امید ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے اور ان درخواستوں پر فیصلہ آنے سے پہلے صدارتی انتخابات کے نتائج کا نوٹیفکیشن نہیں ہوگا‘۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان درخواستوں پر فیصلہ آنے کے بعد بھی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کی طرف یہ پہلا قدم ہے اور ملک سے فوجی آمریت کا خاتمہ ہوگا۔
جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے دعویٰ کیا کہ ان آئینی درخواستوں میں انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہزار ارکان اسمبلی بھی جنرل پرویز مشرف کو ووٹ ڈال دے تو وہ اس وقت تک نومنتخب صدر قرار نہیں دئیے جاسکتے جب تک اس کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوتا اور چیف جسٹس آف پاکستان ان سے حلف نہیں لے لیتے۔