Thursday, 04 October, 2007, 10:12 GMT 15:12 PST
ہارون رشید
اسلام آباد
صوبہ سرحد کے شہر ہنگو میں مقامی طالبان کی جانب سے بازاروں اور محلوں میں پمفلٹ کے ذریعے تنبیہ کی گئی ہے کہ لوگ غیرشریعی اقدامات سے توبہ کر لیں ورنہ انہیں عبرت کا نشان بنا دیا جائے گا۔
اپنی نوعیت کے اس پہلے پیغام میں عوام خصوصاً اساتذہ، سرکاری افسران، غیرسرکاری تنظیموں اور سود خوروں کو خبردار کیا گیا ہے۔
’پیارے مسلمان بھائیوں کے نام اہم پیغام‘ کے عنوان سے ہاتھ سے لکھے ہوئےاس پمفلٹ میں عورتوں کو گھروں میں رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔ تاہم جو تاجر عورتوں کو دوکانوں میں بٹھائیں گے ان کے خلاف بھی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔
سی ڈیز کا کاروبار کرنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے کاروبار بند کر دیں ورنہ ان کا حشر امریکی ایجنٹوں جیسا ہوگا۔ اس خط میں ایسا ہی پیغام غیرسرکاری تنظیموں کے لیے بھی ہے۔
’اسلامی طالبان‘ کی جانب سے اس پیغام میں واضع کیا گیا ہے کہ ان کے جاسوس ہرگلی ہر محلے میں موجود ہیں لہذا کوئی بھی ان کے خلاف سازش کی کوشش نہ کرے ورنہ وہ اپنی موت کو آواز دے گا۔
اس پیغام سے ایک ہفتہ قبل ہی ہنگو میں دو غیرسرکاری تنظیموں کے دفاتر اور دو سی ڈی سینٹروں میں دھماکہ ہوچکے ہیں۔ البتہ ان دھماکوں کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
مقامی صحافی عبدالصبور خان کے مطابق ہنگو کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے اور وہ اسے یقینی بنائیں گے۔