Thursday, 04 October, 2007, 22:06 GMT 03:06 PST
پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے مشرف حکومت کی طرف سے قومی مصالحت کے نام پر متعارف کرائے جانے والے مجوزہ ’نیشنل ری کانسیلیشن آرڈیننس‘ یا این آر او کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے۔
حکومت اور پیپلز پارٹی کے مابین جاری مذاکراتی عمل میں این آر او کے مسودے پر اتفاقِ رائے کو سب سے اہم پیش رفت کہا جا رہا ہے۔
مقدمات کی واپسی |
اطلاعات کے مطابق این آر او کے تحت ان تمام سیاسی رہنماؤں اور افسروں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات واپس لے لیے جائیں گے جو سال انیس سو اٹھاسی اور انیس سو ننانوے کے درمیانی عرصہ میں حکومتوں کا حصہ رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے معتمد خاص اور ایف آئی اے (فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی) کے سابق افسر رحمان ملک نے بی بی سی اردو سروس کے ثقلین امام سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ حکومت اور ان کی جماعت کے درمیان مفاہتی عمل اب ’زبانی سے تحریری شکل‘ اختیار کر گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اور پیپلز پارٹی دونوں کی کامیابی ہے۔ رحمان ملک نے عندیہ دیا کہ این آر او جمعہ کو جاری ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا فائدہ تمام سیاسی جماعتوں کو ہوگا۔
اس سے قبل لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ تمام متنازعہ معاملات پر مفاہمت ہو گئی ہے اور توقع ہے کہ زبانی طے ہونے والے معاملات آرڈیننس کی شکل میں سامنے آ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مخدوم امین فہیم اور صدر کے معاونین کے درمیان بات چیت کے بعد معاملات طے پا گئے ہیں، جن کی روشنی میں قومی مفاہمت آرڈیننس کامسودہ تیار ہو رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ صدر سے مفاہمت ہو جانے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف کو ووٹ نہیں دے گی کیونکہ اصولی طور پر ایک باوردی صدر کو ووٹ نہیں دیا جا سکتا۔
بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی یا تو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے گی یا پھر اپنے امیدوار مخدوم امین فہیم کو ووٹ ڈالے گی۔
تیسری مرتبہ وزیراعظم |
تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر قانونی پابندی کے بارے میں ایک سوال پر بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی ہے اور وقت آنے پر اس بارے میں بھی اعلان کر دیا جائے گا۔
صدر کو آئین کی شق اٹھاون 2B کے تحت حاصل اختیارات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مفاہمتی عمل کے دوسرے مرحلے میں عام انتخابات ہونے ہیں جن کی بین الاقومی مبصرین کی جانب سے توثیق ہوگی اور اس کے بعد صدر کو پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہوگا۔ انہوں نے کہا اسی مرحلے پر آرٹیکل اٹھاون 2B کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔