Thursday, 04 October, 2007, 14:11 GMT 19:11 PST
فراز ہاشمی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ تمام متنازعہ معاملات پر مفاہمت ہو گئی ہے اور توقع ہے کہ زبانی طے ہونے والے معاملات جمعرات کی رات تک آرڈیننس کی شکل میں سامنے آ جائیں گے۔
بے نظیر بھٹو نے جمعرات کو لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات مخدوم امین فہیم اور صدر کے معاونین کے درمیان بات چیت کے بعد معاملات طے پا گئے ہیں اور اس بات چیت کی روشنی میں قومی مفاہمت آرڈیننس کامسودہ تیار کیا جا رہا۔
انہوں نے کہا کہ صدر سے مفاہمت ہو جانے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب میں جنرل مشرف کو ووٹ نہیں دے گی کیونکہ پیپلز پارٹی اصولی طور پر باوردی صدر کو ووٹ نہیں ڈال سکتی۔
بے نظیر بھٹو نے کہا اس صورت میں پاکستان پیپلز پارٹی یا تو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لے گی یا پھر اپنے امیدوار مخدوم امین فہیم کو ووٹ ڈالے گی۔
![]() | |
| اجلاس میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما فوری طور پر پاکستان روانہ ہو گئے |
بے نظیر بھٹو نے حکومت سے طے پانے والے معاملات کی تفصیل نہیں بتائی اور کہا کہ جب تک آرڈیننس جاری نہیں کر دیا جاتا وہ کوئی حتمی بات نہیں کر سکتیں۔ قومی مفاہمت آرڈیننس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب تک وہ تحریری شکل میں اسے نہیں دیکھ لیتی وہ نہیں کہ سکتیں کہ وہ کہاں کھڑی ہیں۔
تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر قانونی پابندی کے بارے میں ایک سوال پر بینظیر بھٹو نے کہا کہ حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی ہے اور وقت آنے پر اس بارے میں بھی اعلان کر دیا جائے گا۔
صدر کو آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت حاصل اختیارات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس مفاہمت کے دوسری اسٹیج میں عام انتخابات ہونے ہیں جن کی بین الاقومی مبصرین کی طرف سے توثیق کی جانی ہے اور اس کے بعد صدر کو دوبارہ پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینا ہے۔ انہوں نے کہا اسی مرحلے پر آرٹیکل 58 ٹو بی کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
مشرف کو اخلاقی جواز |
صدارتی انتخاب میں صرف حصہ لینے سے جنرل پرویز مشرف کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس پر دو آراء پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک رائے یہ ہے کہ اگر پارٹی انہیں ووٹ دیتی ہے تو یہ صدارتی انتخاب کو اخلافی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی باوردی صدر کو ووٹ نہیں ڈالے گی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی باقی جماعتوں کی طرح منتخب ایوانوں سے استعفے نہیں دے گی۔
بے نظیر بھٹو نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کی تفصیلات نہیں بتائیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے تحت پارلیمنٹری کمیٹیاں بنائی جائیں گی اور کسی بھی رکنِ پارلیمنٹ کو ان کمیٹیوں کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔
مقدمات واپس لینے کے حوالے سے ایک بیان پر بے نظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک جمہوری پارٹی ہونے کے حوالے سے تمام سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف قائم کیئے جانے والے مقدمات واپس لینے کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی بھی کسی فردِ واحد کے لیے کوئی ڈیل نہیں کی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے آصف زرداری کا ذکر کیا کہ انہوں نے آٹھ سال قید کی سزا کاٹی لیکن پارٹی نے کوئی ڈیل نہیں کی۔