http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 04 October, 2007, 18:20 GMT 23:20 PST

شفیع نقی جامعی
بی بی سی اردو سروس، اسلام آباد

فوجیوں کے بھگوڑے ہونے کی تردید

سرحد کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) علی محمد جان اورکزئی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ جنوبی وزیرستان میں پکڑے گئے فوجی اغواء نہیں ہوئے بلکہ خود بھگوڑے ہو گئے ہیں۔

بی بی سی اردو سروس سے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ یہ دو سو لوگ چاہے وہ ایف سی کے ہیں یا آرمی کے ہیں وہ بھگوڑے ہو گئے۔

گورنر سرحد نے کہا کہ جن حالات میں یہ لوگ شدت پسندوں کے ہاتھ آ گئے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کا ماحول شمالی وزیرستان سے مختلف ہے اور اس قسم کی قافلے جس میں فوجی، راشنز وغیرہ اور ان کی موومنٹ وہ ایک معمول کی بات تھی۔

انہوں نے کہا جس دن فوجیوں کو اغواء کیا گیا اس دن قافلے کے راستے میں ایک جگہ پر لینڈ سلائیڈنگ ہو گئی تھی اور وہاں پر مقامی لوگوں کی گاڑیاں بھی پھنسی ہوئی تھیں۔

’اوپر سے یہ کانوائے آ گئی، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ انہوں نے اکٹھے بند روڈ بلاک کو کلیئر کرنا شروع کر دیا۔ اسی اثناء میں جو کانوائے کا دوسرا گروپ بھی وہاں پہنچ گیا، اس کے بعد پھر کانوائے کا تیسرا دستہ آ گیا۔ اسی دوران لوگوں کو یہ گمان ہو گیا کہ پتہ نہیں یہ آرمی کوئی آپریشن لانچ کرنا چاہ رہی ہے۔ قبائلیوں کو اور عسکریت پسندوں کو یہ خدشات تھے کہ شاید ہو سکتا ہے کہ فوج یہاں پر آپریشن کرے، اور یہ گمان اُنہیں شاید اس لیے گزرا کے انہوں نے معمول سے زیادہ فوج کی نفری کو دیکھا اور وہ ڈر گئے کہ شاید یہ آپریشن کے لیے آ رہے ہیں۔لوگ اکٹھا ہونا شروع ہو گئے اور آپس میں گھل مل گئے اور پھر انہوں نے کہا ابھی آپ بیٹھ جائیں آپ سے ہم بات چیت کرتے ہیں۔ اس طریقے سے فوجی ایسے حالات میں پھنس گئے کہ وہ نکل نہیں سکے اور وہ اس امید سے بات چیت کرنے لگے کہ ان کے سامنے وضاحت کریں گے کہ کوئی آپریشن نہیں ہو رہا اور اسی کنفیوژن میں یہ سارا کچھ ہو گیا‘۔

زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی
 انہوں غفلت ضرور کی ہے کہ جب بھی فوج کسی ایسے علاقے میں جاتی ہے اور خاص کر اس علاقے میں جہاں پہلے آپریشنز بھی ہوئے ہیں، تھوڑی ٹینشن بھی تھی تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کو زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی
 
گورنر سرحد علی جان اورکزئی

’میں صرف اندازہ لگا رہا ہوں، ویسی سچویشن بن گئی کہ شاید انہوں نے یہ سوچا ہو لیکن اس کے ساتھ میں یہ بھی کہوں گا کہ انہوں غفلت ضرور کی ہے کہ جب بھی فوج کسی ایسے علاقے میں جاتی ہے اور خاص کر اس علاقے میں جہاں پہلے آپریشنز بھی ہوئے ہیں، تھوڑی ٹینشن بھی تھی تو میں سمجھتا ہوں کہ ان کو زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی جو کہ شاید انہوں نے نہیں کیا‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک پچاس رکنی منی پاک افغان جرگہ ابھی بنایا جا رہا ہے جس میں پچیس ارکان پاکستان سے ہوں گے اور پچیس افغانستان سے ہوں گے۔ یہ منی جرگہ جو کہ گرینڈ جرگے کی سفارشات کو آگے بڑھائے گا اور ان پر عملدرآمد کی حکمت عملی بنائے گا اور مخالف گروپوں سے بات چیت کرے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ منی جرگہ کی تشکیل بہت جلد ہو جائے گی۔