Wednesday, 03 October, 2007, 10:50 GMT 15:50 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی قومی و صوبائی اسمبلیوں سے حزب مخالف کے اتحاد ’اے پی ڈی ایم‘ کی جانب سے استعفے دیے جانے کے بعد بھی حکومتی اتحاد کو جنرل پرویز مشرف کو صدر منتخب کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
صدر کے الیکٹورل کالج کے کل گیارہ سو ستر ووٹ ہیں جبکہ قومی اسمبلی اور صوبہ سرحد کے علاوہ تینوں صوبائی اسمبلیوں سے آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ کے صرف ایک سو چونسٹھ اراکین مستعفی ہوئے ہیں۔
پاکستان کی قومی اسمبلی اور تین صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے والے تمام حزب مخالف کی جماعتوں کے اراکین سے حزب مخالف کی واحد جماعت پیپلز پارٹی کے اراکین کی تعداد زیادہ ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی سیکریٹری اظہار امروہی کے مطابق پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی میں 56 اراکین ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کی رکن پنجاب اسمبلی فرزانہ راجہ کے مطابق پنجاب اسمبلی میں ان کے چونسٹھ اور سندھ اسمبلی میں اٹھاون اراکین ہیں۔
ایک سو اراکین پر مشتمل سینیٹ سے کوئی بھی مستعفی نہیں ہوا۔ قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس کے ایوان میں تین نشستیں خالی ہیں اور حکمران مسلم لیگ کی ایک خاتون رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عاشق فردوس اعوان پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکی ہیں۔
اس کے باوجود بھی قومی اسمبلی میں حکومت کے پاس ایک سو نوے سے زائد ووٹ موجود ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے چھپن اراکین قومی اسمبلی بھی ابھی موجود ہیں۔
تین سو اکہتر اراکین پر مشتمل پنجاب اسمبلی سے محض چھیالیس اراکین نے استعفے دیے ہیں۔ جہاں پیپلز پارٹی کے چونسٹھ اور حکومت کے ڈھائی سو سے زائد اراکین موجود ہیں۔
اس طرح ایک سو اڑسٹھ اراکین پر مشتمل سندھ اسبلی سے محض سات اراکین مستعفی ہوئے اور دو نشستیں خالی ہیں۔ اب بھی حکومت کے پاس ایک سو اور پیپلز پارٹی کے اٹھاون اراکین موجود ہیں۔
صوبہ سرحد اسمبلی میں وزیرا اعلیٰ اکرم درانی کے خلاف عدم اعتماد کی وجہ سے متحدہ مجلس عمل اور ان کی ہم خیال جماعتوں نے استعفے نہیں دیے۔ سرحد اسمبلی واحد صوبائی اسمبلی ہے جہاں حزب مخالف کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہے۔
بیشتر مبصرین کہتے ہیں کہ متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن نے سرحد اسمبلی فوری طور پر توڑنے کے بجائے حکومت کو موقع فراہم کیا، تاکہ وہ عدم اعتماد کی تحریک پیش کر سکیں اور اسمبلی صدارتی انتخابات تک ٹوٹنے سے بچ جائے۔
کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر سرحد اسمبلی ٹوٹ جاتی تو صدر کا الیکٹورل کالج متاثر ہوتا اور صدارتی انتخاب کا قانونی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔