Wednesday, 03 October, 2007, 13:32 GMT 18:32 PST
احمدرضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کو ان کی جماعت سے وابستہ وفاقی وزیر برائے ٹیکسٹائل انڈسٹریز اور رکن قومی اسمبلی مشتاق چیمہ اور ایک اور رکن قومی اسمبلی رجب علی بلوچ نے چودھری شجاعت حسین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور بدعنوانی کے مقدمات میں سیاستدانوں کو عام معافی دینے کی تجویز کی بھرپور مخالفت کی۔
اعلامیے کے مطابق ’پی پی پی کے ساتھ معاہدے کے خلاف انہوں (ارکان قومی اسمبلی) نے پرزور الفاظ میں کہا کہ ہمارے تحفظات صدر پاکستان تک پہنچادیے جائیں‘۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے ارکان قومی اسمبلی نے چوہدری شجاعت سے کہا کہ ’اگر کرپشن کو قانونی تحفظ دیا جائے گا تو ہم عوام میں کس منہ سے اس عمل کی حمایت کریں گے جبکہ گزشتہ پانچ سال سے ہم تواتر کے ساتھ کرپشن کے خلاف کہتے رہے ہیں‘۔
![]() | |
| متحدہ قومی موومنٹ نے بھی عام معافی کی حکومتی تجویز پر اختلاف کا اظہار کیا ہے |
واضح رہے کہ اس اعلامیے میں عام معافی کی حکومتی تجویز پر چودھری شجاعت حسین کے ردعمل کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس حکومتی تجویز پر اختلاف کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اس سلسلے میں ہونے والے کسی بھی فیصلے سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
متحدہ کے پارلیمانی لیڈر اور رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کی شام ہورہا ہے جس میں اس بارے میں غور کیا جائے گا اور پارٹی کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کو اس تجویز پر کچھ تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’اگر سیاستدانوں کو کرپشن کے مقدمات میں عام معافی دی جاتی ہے تو ایم کیو ایم کے ان غریب اور عام کارکنوں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا جائے جن کے خلاف ماضی میں صرف اور صرف سیاسی انتقام کی بنیاد پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے‘۔