Sunday, 30 September, 2007, 18:14 GMT 23:14 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
صدارتی انتخاب میں وکلاء برادری کی جانب سے نامزد امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے اتوار کی شام کراچی پریس کلب پہنچ کر صحافیوں سے اظہار یکجہتی کیا اور اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں میں صحافی برادری پر سنیچر کو پولیس تشدد کی مذمت کی۔
وہ جسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرارالحسن ایڈووکیٹ کے ہمراہ پریس کلب پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ وکلاء اور صحافی ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر میڈیا اور پریس کو زیر کرلیا جائے تو وکلاء کی آدھی تحریک تو یوں ہی ختم ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت دعوٰی کرتی ہے کہ اس کے دور میں میڈیا کو آزادی ملی حالانکہ کم از کم اکیس صحافی ان کے دور میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ان کے دور سے پہلے پچھلے باون سالوں میں اتنی تعداد میں صحافی جاں بحق نہیں ہوئے۔
ایک لمبی جنگ کا تہیہ |
وجیہ الدین احمد نے صدر کے دو عہدے رکھنے سے متعلق عدالتِ عظمٰی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ دراصل کوئی فیصلہ ہی نہیں بلکہ فیصلہ کرنے سے بچنے کا ایک آسان طریقہ ہے کیونکہ وہاں اپیلوں کے قابلِ سماعت ہونے پر کوئی بات ہی نہیں ہوئی اور ان کو قابلِ سماعت نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا‘۔
انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ فیصلہ آنے کے بعد قوم پھر اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں ان اپیلوں کی سماعت سے پہلے تھی۔ ’بہرحال ہم مشاورت کر کے پھر عدالت جائیں گے‘۔
انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ’یہ الیکشن جیتنا ہمارا مطمِع نظر نہیں ہے بلکہ ہم نے ایک لمبی جنگ کا تہیہ کیا ہوا ہے جو کسی عہدے کے لیے نہیں بلکہ اصولوں اور مقاصد کے لیے ہے اور اس میں ہمیں کامیاب ہونا ہے‘۔