http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 30 September, 2007, 13:37 GMT 18:37 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

چھ وکلاء پر دہشت گردی کا مقدمہ

اسلام آباد پولیس نے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کو مبینہ طور پر زدوکوب کرنے کے الزام میں چھ وکلاء کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں سنیچر کو صدارتی امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر وکلاء کے احتجاج کے دوران ایک مشتعل ہجوم نے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم کو بھی گھونسوں اور تھپڑوں کا نشانہ بنایا تھا۔

ڈاکٹر فاروق ستار کو سنیچر کے روز اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں زدوکوب کیا گیا تھا۔

اس واقعہ کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں درجہ ایک ایف آئی آر کو سیل کر دیا گیا اور پولیس نے اس میں نامزد کیئے گئے ملزمان کے نام بتانے سے انکار کر دیا ہے۔

تاہم ایم کیو ایم کے رہنما کی شکایت پر درج کی گئی ایف آئی آر پر گرفتار شدہ وکلاء کو سوموار کو راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ان پر یہ حملہ مبینہ طور پر سپریم کورٹ بار کے صدر منیر اے ملک اور علی احمد کرد کے ایماء پر کیا گیا تھا۔

تاہم پولیس نے وکلاء تحریک کے ان دو سرکردہ ارکان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

سنیچر کو صدارتی انتخاب کے لیے جمع کرائے گئے کاغذاتِ نامزدگی کے موقع پر اسلام آباد میں تشدد کے واقعات پر اسلام آباد پولیس کے دو مختلف تھانوں میں چھ شکایت درج کی گئی ہیں۔ ایک ایف آئی آر میں پیپلز پارٹی کی چھ خواتین کارکنوں کے نام شامل ہیں جبکہ دوسری ایف آئی آر حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم کے خلاف ہے اور اس میں کس شخص کا نامزد نہیں کیا گیا۔