Saturday, 29 September, 2007, 16:08 GMT 21:08 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں تقریباً بائیس سو سالہ قدیم مہاتما بدھ کے مجسمے کو ایک بار پھر دھماکے سے اڑا نے کی کوشش کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں مجسمے کو پہلے حملے کی نسبت زیادہ شدید نقصان پہنچا ہے۔
سوات میوزیم کے کیوریٹر محمد اقلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام چار بجے مینگورہ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر مشرق میں واقع منگلور کے جہان آباد میں نامعلوم افراد نے بدھا کے قدیم مجسمے کو بارود سے مسمار کرنے کی کوشش کی ہے، جس سے مجسمے کے سر، کندھے اور پاؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان کے مطابق ’ڈھلوان پر بنائے گئے مجسمے میں پہلے سوراخ کر کے بارود بھرا گیا اور پھر اس میں آگ لگا کر دھماکہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بدھا کے مجسمے کا سر مکمل طور پر اڑ گیا ہے جبکہ پیروں اور کندھے کا بیشتر حصہ تباہ ہونے کی وجہ سے ناقابل شناخت ہوگیا ہے۔
محمد اقلیم کے مطابق انہوں نےگزشتہ واقعہ کی ایف آئی آر درج کرائی تھی مگر اس سلسلے میں نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے۔
محمد اقلیم کے بقول مقامی لوگوں نے انہیں بتایا کہ بعض نقاب پوش افراد نے خود کو مجاہدین ظاہر کر کے پہلےانہیں یر غمال بنایا اور بعد میں انہوں نے مجسمے کو بم سے اڑادیا۔ ان کے مطابق اس علاقے میں پولیس کی زیادہ تر چوکیوں کو پہلے ہی تباہ کیا جاچکا ہے۔
معروف ماہر آثار قدیمہ پروفیسر پرویز شاہین نے بی بی سی کو بتایا کہ سن دو ہزار کے دوران افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں وادی بامیان میں بدھا کے مسمار کیے گئے مجسمے کے بعد سوات میں تخریبی کارروائی کا نشانہ بننے والا مجسمہ ایشیا میں بدھا کا دوسرا بڑا مجسمہ سمجھا جاتا ہے، جو تقریباً بائیس سو سال قدیم ہے۔
![]() | |
| خیال کیا جاتا ہے کہ سوات میں بدھا کے سینکڑوں چھوٹے بڑے مجسمے موجود ہیں |
قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع کے بعد ضلع سوات میں بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے مبینہ ’ طالبانائزیشن‘ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سوات میں کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے سابق رہنماء اور غیر قانونی ایف ایم چینل چلانے والے ایک ’سخت گیر‘ مذہبی عالم موجود ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ وہ جہاد کی حمایت کے حوالے سے تقاریر کرتے ہیں اور بچوں کو پولیو کے حفاظتی قطرے پلانے کو مغربی سازش قرار دیتے ہیں۔
![]() | |
| مجسمے کے سر، کندھے اور پاؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے |