http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 26 September, 2007, 06:59 GMT 11:59 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’صدر کومنتخب ہوتے ہی وردی اتارنی چاہیے‘

قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کو صدر منتخب ہوتے ہی فوجی عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

انہوں نے یہ بات صدر کے عہدوں اور سترہویں ترمیم کے خلاف جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کے سامنے عدالت کے معاون کی حیثیت سے دلائل دیتے ہوئے کہی۔

ایس ایم ظفر نے کہا کہ صدر مشرف کے صدارتی عہدے پر انتخاب کے ساتھ ہی آئین کی دفعہ تینتالیس فوری طور پر بحال ہو جائے گی اور اس کے تحت صدر مشرف کو اپنا فوجی عہدہ چھوڑنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کا حصہ تھے اس لیے وہ اس شش و پنج میں تھے کہ معاون کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو یا نہ ہوں۔

اس سے پہلے حکومتی وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے دو عہدوں کے بارے میں آئینی درخواستیں سپریم کورٹ کے سامنے قابلِ سماعت نہیں ہیں۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس رانا بھگوان داس نے اٹارنی جنرل کی اسی نوعیت کی دلیل پر اپنے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی ان درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دے چکی ہے۔

جب سید شریف الدین پیرزادہ نے پیر صابر شاہ کیس کا حوالہ دیا تو جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا ایک لارجر بینچ پہلے سے اعلان شدہ سپریم کورٹ کے ہی کسی فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔

سید شریف الدین پیرزادہ نے جب قاضی حسین احمد کیس کا حوالہ دیا تو بینچ میں شامل جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ یہ فیصلہ سترہویں ترمیم کے منظور ہونے سے پہلے آیا تھا۔

سپریم کورٹ کے زیر سماعت ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔

ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نو رکنی بینچ کر رہا ہے جبکہ اس کے ارکان میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس شاکراللہ جان شامل ہیں۔