Wednesday, 26 September, 2007, 13:08 GMT 18:08 PST
نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سکھر
ترقی پسند سندھی ادیب اور سینئر وکیل نورالدین سرکی حرکت قلب بند ہونے پر کراچی کے ضیاءالدین ہسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر پچاسی برس تھی۔
ان کی نماز جنازہ بدھ کو خیابان اتحاد میں ان کی رہائش گاہ کے قریب ادا کی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد سمیت کئی ججوں، ایڈووکیٹ جنرل، جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ، زین شاہ ، سندھی ادیبوں اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔
اس کے بعد انہوں نے ایل ایل بی کیا اور انیس سو باون میں وکالت کا پیشہ اختیار کر لیا اور پھر ساری زندگی اسی سے وابستہ رہے۔ نورالدین سرکی کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ آخری وقت تک ایک سرگرم سیاسی کارکن بھی رہے۔
نورالدین سرکی کے دوست اور سندھی ادیب شمشیرالحیدری کا کہنا ہے کہ سرکی کو سندھی زبان کے ساتھ ساتھ فارسی، اردو اور انگریزی ادب پر بھی عبور حاصل تھا۔ عمر خیام اور حافظ شیرازی کی شاعری وہ اتنی ہی شوق سے سناتے تھے جتنی دلچسپی سے وہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام سنایا کرتے تھے۔ ’ان کی موت کے باعث ترقی پسند ادیبوں کا قافلہ ایک اہم ساتھی سے محروم ہوگیا ہے۔‘
نورالدین سرکی کا شمار سندھی لکھاریوں کی تنظیم سندھی ادبی سنگت کی بنیاد رکھنے والے ادیبوں میں ہوتا تھا۔
کراچی کے علاقے صدر میں ’پیراڈائیز لاء چیمبرز‘ میں ان کا دفتر سیاسی کارکنوں اور ادیبوں کا ڈیرہ مانا جاتا تھا۔ ان کے وکیل دوست غلام شاہ کے مطابق نورالدین سرکی عمومی طور پر سیاسی کارکنوں کے مقدمے مفت ہی لڑتے تھے۔
نورالدین سرکی نے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔