Monday, 24 September, 2007, 01:33 GMT 06:33 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
سعودی عرب کے شہر جدہ میں جلاوطن سابق وزیر اعظم نواز شریف اورقائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان کی ایک اور اہم ملاقات ہوئی ہے۔
حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہوں کے درمیان سعودی عرب میں ہونے والی اس خصوصی ملاقات میں فیصلہ ہوا ہے کہ صدارتی انتخاب کی ازسرنو حکمت عملی طے کرنے کے لیے تحریک میں شامل جماعتوں کا ایک نیا اجلاس بلایا جائے گا۔
تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات کی تفصیلات لاہور میں جےیوآئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا امجد خان نے جاری کیں۔ ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کے استفسار پر انہیں بتایا ہے کہ پارلیمان سے مستعفی ہونے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ اس پر قائم ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے انہیں یقین دلایا کہ وہ پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کے خلاف مجلس عمل کے اراکین کے مستعفی ہوجانے سمیت ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی رائے ہے کہ فیصلے عجلت میں نہ کیے جائیں اور موثر حکمت عملی بنائی جائے۔
حزب اختلاف کے دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے پاکستان لوٹنے کے فوری بعد اے پی ڈی ایم کا اجلاس بلایا جائے گا اور مولانا فضل الرحمان کی مشاورت سے پرویز مشرف مخالف حکمت عملی طے کی جائےگی۔
حزب مخالف کی دونوں جماعتیں مسلم لیگ نواز اور جے یوآئی،آل پارٹیز ڈیموکریٹک مومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کا حصہ ہیں۔
![]() | |
| لندن میں اے پی ڈی ایم کے قیام کے موقع پر مولانا فضل الرحمان نے استعفوں سمیت تمام راستے اختیار کرنے کی بات کی تھی |
اب نواز شریف سے استعفوں کے موضوع پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد مولانا فضل الرحمان اپنا دورہ مختصر کرکے پیر کو پاکستان لوٹ رہے ہیں جہاں پہلے ان کی اپنی جماعت جے یوآئی کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا اور بعد میں مجلس عمل کی سپریم کونسل اور پھراے پی ڈی ایم کے اجلاس ہونگے۔
توقع کی جارہی ہے کہ اب فیصلوں کا اعلان خود مولانا فضل الرحمان کریں گے۔
جے یوآئی کے ترجمان نے کہا کہ نواز شریف سے ہونے والی ملاقات میں مرکزی ایجنڈا پرویز مشرف کے صدارتی انتخاب کے خلاف حکمت عملی رہا۔
ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں میں ایک ہفتے کے دوران یہ دوسری غیر معمولی ملاقات تھی۔