http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 23 September, 2007, 09:46 GMT 14:46 PST

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان

وزیرستان: فوجی قافلوں پر حملے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دو مختلف مقامات پر فوجی قافلوں کو بارودی سرنگوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم دونوں حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

شمالی وزیرستان کی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح نو بجے کے قریب چوہتر گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلہ راشن لے کر بنوں سے میرانشاہ جا رہا تھا کہ ایف آر کے علاقے بکاخیل میں ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی۔

حکام کے مطابق دوسرا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک فوجی قافلہ بنوں سے رزمک جا رہا تھا کہ میرعلی کے قریب کرم کوٹ کے علاقے میں ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی۔ دونوں واقعات میں گاڑیوں کو تو نقصان پہنچا ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ کوئی اہلکار زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

دوسری جانب جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے تین سو کے قریب مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے قبائلی جرگہ اور مقامی طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

مذاکرات جاری
 جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے تین سو کے قریب مغوی اہلکاروں کی رہائی کے لیے قبائلی جرگہ اور مقامی طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں
 

سنیچر کو درے محسود قبائل کے جرگہ نے پولیٹکل ایجنٹ حسین زادہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ ذرائع کے مطابق پولیٹکل انتظامیہ اور قبائلی جرگہ کے درمیان مذاکرات میں ’امن معاہدہ سراروغہ‘ پر عملدرآمد کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا، لیکن طالبان نے ایک بار پھر ان انیس افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جن کو ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مقامی طالبان کا ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ تیس اگست کو سکیورٹی فورسز کے تین سو کے قریب اہلکاروں کو بیت اللہ محسود گروپ کے مقامی طالبان نے قبائلی علاقے لدھا سے اغواء کر لیا تھا، جن میں سے اب تک صرف بتیس اہلکاروں کو رہائی نصیب ہوئی ہے۔