http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 18 September, 2007, 13:38 GMT 18:38 PST

عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی

صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیر زادہ نے منگل کو سپریم کورٹ میں ایک بیان داخل کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ان کے مؤکل دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ حلف اٹھانے سے قبل ہی آرمی چیف کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

صدر منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا
صدر اور وردی ساتھ ساتھ نہیں
وردی اتارنے پر رضامند: بینظیر

پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایم ایم اے کے رہنماء کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی جنرل پرویز مشرف نے ٹیلی ویژن پر قوم کے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اکتیس دسمبر تک وردی اتار دیں گے مگر بقول ان کے صدر نے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی اور پوری قوم کو دھوکہ دیا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ میں داخل کردہ بیان بھی محض ایک دھوکہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو وردی میں یا وردی کے بغیر کسی بھی صورت میں صدر تسلیم نہیں کیا جائےگا۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے انتخابات کے قواعد و ضوابط میں ترمیم کرکے ایک ’غیر آئینی‘ اقدام کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ صدر کے دوبارہ انتخاب کے معاملے پر ان کے پاس صوبہ سرحد کی اسمبلی توڑنے کا آپشن بھی موجود ہے، جس کے نتیجے میں صدر کا حلقۂ انتخاب (الیکٹروریل کالج) کی حیثیت متنازعہ ہوجائے گی۔

جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا نو رکنی بینچ صدر کے دو عہدے رکھنے، آئین میں سترہویں ترمیم اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب سے متعلق درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔ ان آئینی درخواستوں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔