Tuesday, 18 September, 2007, 10:53 GMT 15:53 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل دوبارہ صدر منتخب ہونے پر فوج کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔
شریف الدین پیرزادہ نے یہ بات سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک تحریری بیان میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا ’اگر جنرل مشرف دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوگئے تو صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔‘
جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ یہ بات تو اخبارات میں آچکی ہے جس پر شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ وہ یہ بات آن ریکارڈ بھی کرنا چاہتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں ان آئینی درخواستیں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔
اکرم شیخ نے کہا کہ آئین کی دفعہ تریسٹھ پوری طرح لاگو ہے اور کسی شخص کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صرف آئین کی دفعہ تریسٹھ (ون اے) صدر مشرف کو تحفظ دیتی ہے اور اسے بھی آئین کی روح سے متصادم ہونے کی وجہ سے ختم کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی موجودہ میعاد گیارہ اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے اور صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ گیارہ ستمبر کو گزر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے دوبار حلف اُٹھا کر آئین کی اس دفعہ کو توڑا ہے۔ ایک مرتبہ تب جب انہوں نے بطور ایک فوجی سیاست میں حصہ لیا اور انہوں نے آئین کے آرٹیکل دو سو چوالیس کی خلاف ورزی کی جبکہ دوسری مرتبہ متحدہ مجلس عمل کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے میں انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر آ کر قوم سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ دسمبر دو ہزار چار کے بعد یونیفارم اُتار دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے قوم سے خطاب کیا تو اُس میں سپریم کورٹ بھی آتی ہے۔
![]() |
انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ اکتالیس کے تحت ایک شخص دو مرتبہ پاکستان کا صدر رہ سکتا ہے اور جنرل پرویز مشرف دو مرتبہ پاکستان کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ وہ تب صدر بنے تھے جب وہ بیس جون دو ہزار ایک میں اس وقت کے صدر رفیق تارڑ کو ہٹا کر خود صدر بن گئے تھے اور دوسری مرتبہ سترہویں ترمیم کے ذریعے صدر بنے تھے، اس لیے وہ تیسری مرتبہ ملک کا صدر بننے کے لیے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کروا سکتے۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان درخواستوں کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے قاضی حسین احمد اور پیپلز لائرز فورم کی درخواستوں پر ہونے والے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک اور سینیئر وکیل حامد خان عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں کہا کہ پیر کے روز ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جو ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا اس کی وجہ سے اعتزاز احسن کمرہ عدالت سے چلے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اعتزاز احسن کو ان مقدمات کی سماعت میں کورٹ کی معاونت کرنے کے لئے طلب کیا تھا لہذا انہیں عدالت میں واپس لایا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ اس ضمن میں وہ پیر کو ہی احکامات جاری کرچکی ہے۔
تب آئین معطل تھا |
اکرم شیخ کے دلائل ختم ہونے کے بعد عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔
سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر اخباری نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ صدر کی طرف سے آج جو بیان عدالت میں جمع کرایا گیا ہے وہ دھمکی نہیں ہے بلکہ یہ بیان قانون کے مطابق دیا گیا ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا جنرل پرویز مشرف بطور صدر دو مرتبہ اپنے عہدے کی معیاد پوری کرچکے ہیں تو انہوں نے کہا کہ صدر کی پہلی مدت کی معیاد پندرہ نومبر کو ختم ہو رہی ہے کیونکہ جنرل پرویز مشرف نے سنہ دو ہزار ایک میں جب بطور صدر چارج سنبھالا تھا تو اس وقت آئین معطل تھا۔