Tuesday, 18 September, 2007, 13:43 GMT 18:43 PST
سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کہا ہے کہ اگر ان کے مؤکل دوبارہ صدر بن گئے تو وہ فوج کے سربراہ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیں گے۔
شریف الدین پیرزادہ نے یہ بات سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک تحریری بیان میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا ’اگر جنرل مشرف دوسری مرتبہ صدر منتخب ہوگئے تو صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔‘
صدر کے سینئر ترین وکیل نے یہ بات جسٹس بھگوان داس کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کے سامنے منگل کی صبح ان پیٹیشنز کی سماعت کے دوران کہی جن میں صدر کے دو عہدے رکھنے، آئین میں سترہویں ترمیم، اور صدر مشرف کے وردی میں رہتے ہوئے آئندہ انتخاب کو چیلنج کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں ان آئینی درخواستیں میں جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، کمیونسٹ پارٹی کے انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوار الحق کی درخواستیں شامل ہیں۔
![]() |
اکرم شیخ نے کہا کہ آئین کی دفعہ تریسٹھ پوری طرح لاگو ہے اور کسی شخص کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صرف آئین کی دفعہ تریسٹھ اے صدر مشرف کو تحفظ دیتی ہے اور اسے بھی آئینی کی روح سے متصادم ہونے کی وجہ سے ختم کر دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کی موجودہ میعاد گیارہ اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے اور صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ گیارہ ستمبر کو گزر چکی ہے۔
ان پٹیشنز کی سماعت جسٹس رانا بھگوان داس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک نورکنی بینچ کررہا ہے۔ اس بینچ میں جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فلک شیر جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس چوہدری محمد اعجاز شامل ہیں۔