Monday, 17 September, 2007, 14:10 GMT 19:10 PST
احمدرضا
بی سی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں گزشتہ ہفتے دو سینئر وکیلوں کے قتل کے خلاف پیر کو وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جس کے باعث مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی۔
کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے احتجاجی جنرل باڈی کا احتجاجی اجلاس منعقد کیا جس میں بار کے سینئر ارکان نے عتیق قادری اور راجہ ریاض کے قتل کی شدید مذمت کی ۔ مقررین نے کہا کہ ان واقعات کے بعد وکلاء میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے۔
اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وکیلوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور عتیق قادری اور راجہ ریاض کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے، اجلاس نے حکومت سے مقتول وکلاء کے ورثاء کو بیس بیس لاکھ روپے معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
راجہ ریاض کو دس ستمبر کو گورنر ہاؤس کے قریب اور عتیق قادری کو چودہ ستمبر کو ان کی رہائشگاہ کے باہر لانڈھی نمبر چار کے علاقے میں گولیاں مارکر شدید زخمی کردیا گیا تھا اور بعد میں وہ دونوں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگئے تھے۔
کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر افتخار جاوید قاضی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دنوں سندھ ہائی کورٹ میں بعض سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے اجتماع کے بعد جان بوجھ کر وکلاء کو ایک پارٹی بناکر پیش کیا گیا ہے جوکہ غلط ہے۔’ وکلاء نہ تو کسی پارٹی کی پالیسی کی پیروی کرتے ہیں اور نہ مخالفت اور اس حوالے سے کسی بھی کارنر میں جو غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے‘۔
غلط فہمیاں |
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بار کی درخواست پر کراچی پولیس نے سٹی کورٹس کی حفاظت کے لیے مزید نفری فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ دو وکیلوں کے قتل کے بعد وکلاء برادری میں پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے احساس کو ختم کرنے کے لیے یہ اقدام کافی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ راجہ ریاض اور عتیق قادری کا قتل سیاسی انتقامی کارروائی ہے حالانکہ کراچی کے وکلاء نے عدلیہ کی آزادی اور چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک میں کبھی سیاسی پارٹیوں کو شامل نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ بارہ مئی اور اس کے بعد وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد بھی ہم نے اپنے طور پر احتجاج کیا اور جلوس نکالے اور کسی سیاسی جماعت کی مدد حاصل نہیں کی‘۔
نعیم قریشی کا کہنا تھا کہ وکلاء ملک کے 98 فیصد عوام میں سے ہیں اور جو لوگ 98 فیصد عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور کراچی اور سندھ میں حکومت کر رہے ہیں، ان کا اخلاقی اور جمہوری فرض بنتا ہے کہ وہ وکلاء کو تحفظ فراہم کریں‘۔