Monday, 17 September, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کےاس نوٹیفکیشن کےخلاف آئینی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں صدراتی انتخاب کے لیے صدر جنرل پرویز مشرف کورعایت دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کےمیڈیا ایڈوائزر محمداظہر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے الیکشن کمیشن کو صدراتی انتخاب کا شیڈول جاری کرنےسے روکا جائے اور حالیہ نوٹیفیکشن کو منسوخ کیا جائے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ آئین سے ماورا قانون جاری کرے، صدراتی انتخاب اور صدراتی امیدوار کی اہلیت کے لیے آئین کے آرٹیکل 41 ، 62 اور 63 میں طریقہ کار اور قابلیت وضع کردی گئی ہے، الیکشن کمیشن اس طریقے کار پرعملدرآمد کا پابند ہے اور اس سے انحراف نہیں کرسکتا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اس بارے میں کوئی نوٹیفیکشن جاری نہیں کرسکتا اور حالیہ نوٹیفیکشن آئین کے خلاف اور بدنیتی پر مبنی ہے۔
ماورا آئین اقدام |
انہوں نے کہا کہ قاضی حسین احمد کے کیس میں اعلی عدلیہ نے جو فیصلہ جاری دیا تھا وہ اس زمانے میں جاری ہوا جب آئین معطل تھا، درخواست گذار کے بقول اب یہ نوٹیفیکشن ایک ایسے موقع پر جاری کیا گیا ہے جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ جب تک صدر کے عہدے کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوجاتا الیکشن کمیشن کو صدارتی امیدواروں کی درخواستیں وصول کرنے سے روکا جائے۔
انہوں نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کو بدنیتی پر مبنی اور عوام سے دھوکے کے مترادف اور ایک باغیانہ اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس پر متعلقہ حکام کو نوٹس لینا چاہیے۔