Monday, 17 September, 2007, 13:08 GMT 18:08 PST
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ (جسٹس افتخار) ملک میں قانون کی سربلندی کے لیے اپنی زندگی بھی خطرے میں ڈالنے کو تیار ہیں۔
برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جسٹس افتخار کے بڑے بیٹے ارسلان نے کہا ہے کہ ان کے والد پاکستان کی عدالتی تاریخ میں بہترین جج کے طور پر پہچانے جانا چاہتے ہیں اور ہر آدمی کو انصاف مہیا کرنے کے لیے وہ کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں۔
جسٹس افتخار نے جنرل مشرف کے دوبارہ صدر منتخب ہونے اور صدر اور آرمی چیف کے عہدے بیک وقت اپنے پاس رکھنے کے خلاف دو مختلف درخواستوں کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک نو رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔
اخبار کے مطابق جسٹس افتخار اور ان کے اہلخانہ اپنی زندگیوں کو لاحق خطرات کے باعث اب گھر سے کم ہی نکلتے ہیں۔ ارسلان کا کہنا تھا ’ابّا کو طویل چہل قدمی پسند ہے ۔۔۔ لیکن سکیورٹی تحفظات کی وجہ سے اب وہ ایسا نہیں کر پاتے۔‘
ارسلان نے بتایا کہ ان کے والد کی بحالی کے بعد ان کے گھر کی سکیورٹی نصف کر دی گئی ہے اور (خفیہ ذرائع سے) ٹیلیفون سننے کا عمل بھی پہلے سے کم ہوگیا ہے۔
سنگ مرمر سے تعمیرشدہ اور سر سبز مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع جسٹس افتخار کے گھر کے ڈرائنگ روم کی دیواروں پر قرآنی آیات پر مبنی کیلیگرافی کے نمونے آویزاں ہیں۔ جسٹس چودھری کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ (چیف جسٹس) اپنی بحالی کے لیے خدا کے شکر گزار ہیں اور ان کے بقول وہ اس سے اور زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔
نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی اور اس کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان صعوبتوں نے انہیں پہلے سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔
اٹھاون سالہ جسٹس افتخار چودھری اپنی چھیالیس سالہ اہلیہ فائقہ، بیٹوں ارسلان (28) ، بالاچ (6) اور تین بیٹیوں عائشہ (28)، افرا (20) اور پلوشہ (16) کے ساتھ رہتے ہیں۔
مضبوط اعصاب |
(جسٹس افتخار کے خلاف صدراتی ریفرنس میں لگائے گئے الزامات میں اپنے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کا بلوچستان کی صوبائی حکومت سے وفاقی پولیس سروس میں اثر و رسوخ استعمال کر کے تبادلہ کرانا سرفہرست تھا)۔
جسٹس افتخار کی بیٹی عائشہ بتاتی ہیں کہ ان کے والد مضبوط اعصاب کے حامل ہیں۔ ’وہ ہم سے کبھی بھی کسی ڈر یا خوف کا ذکر نہیں کرینگے ۔۔۔ انہیں زیادہ فکر عوام کی ہے جنہوں نے ان کا ساتھ دیا اور یہ کہ انصاف تک عام آدمی کی رسائی کیسے ممکن ہو۔‘