Sunday, 16 September, 2007, 07:03 GMT 12:03 PST
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کے قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کے لیے سرکاری ملازمت یا کوئی دوسرا عہدہ رکھنے کی پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یوں صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ رکھتے ہوئے بھی صدر کا الیکشن لڑ سکیں گے۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کی دو سالہ مدت کے مکمل ہونے کے بھی پابند نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے قواعد میں تبدیلی کی سمری گزشتہ ہفتے صدرِ مملکت کو بھجوا دی تھی جس کی صدر نے منظوری بھی دے دی ہے اور اس کے نتیجے میں قواعد میں ترمیم کا نوٹیفیکشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا کہ قواعد میں تبدیلی صرف سرکاری ملازمت سے متعلق عدم اہلیت کی شق سے متعلق ہے یا آرٹیکل تریسٹھ کی دیگر دفعات بھی صدارتی امیدواروں پر لاگو نہیں ہوتیں۔
الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے آئینی امور کے ماہر وکیل جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا کہ’اس ترمیم کے بعد کوئی پاگل اور مجرم شخص بھی پاکستان کا صدر بن سکتا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر جبکہ سپریم کورٹ کا نو رکنی بنچ صدر کے عہدے اور وردی سے متعلق مختلف پٹیشنز کی سماعت پیر کو شروع کر رہا ہے، اس قسم کی تبدیلی آئین اور عدالتوں کے ساتھ صریحاً مذاق کے مترادف ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے حکومت نے الیکشن کمیشن کے قواعد میں یہ ترمیم کر کے ایک نئے آئینی بحران کا راستہ ہموار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے دو عہدوں کے علاوہ اب عدالت ہی کو اس مسئلے کا حل بھی تلاش کرنا ہوگا کیونکہ اس نوٹیفیکشن کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔