Saturday, 15 September, 2007, 14:38 GMT 19:38 PST
اسلم بٹ
اسلام آباد
پا کستان کے قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ کو احتساب عدالت میں پیشی سے استثنا کے خاتمے کی استدعا کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر شیرپاؤ، جنہیں گزشتہ سات سالوں سے یہ استثنا حاصل ہے، نیب کے مقدمے کے مطابق اسلام آباد نیوسٹی پراجِیکٹ میں ہونے والی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں۔ سن دو ہزار سے اب تک اس مقدمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ تاہم ان کے خلاف نیب کی جانب سے قائم کردہ مقدمے کو ختم نہیں کیا گیا تھا۔
نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ نے سنیچر کو بی بی سی کو بتایا کہ نیوسٹی پراجیکٹ کے بڑے ملزم طاہر نیا زی نے آفتاب شیر پاؤ کے امریکہ میں قائم بینک اکاؤنٹ میں ایک لاکھ سترہ ہزار ڈالرز منتقل کیے گئے تھے جس کا حکام کے پاس تحریری ثبوت بھی موجود ہے ۔
انہوں نے یہ بات بتانے سے گریز کیا کہ نیب نے گزشتہ سات برسوں کے دوران یہ درخواست عدالت میں دائر کیوں نہیں کی اور اب جب حکومت نئے انتخابات کا انعقاد کر رہی ہے تو اس نئی درخواست کی کیا ضرورت تھی۔
یاد رہے کہ موجود حکومت کے قیا م کے وقت شیر پاؤ ہی پیپلز پارٹی کے واحد رہنما نہیں تھے جنہوں نے اپنی سیا سی وفا داریاں تبدیل کر تے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا بلکہ ان کے علاوہ بھی دیگر کم و بیش ایک درجن پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کا ایک نیا گروپ پی پی پی پیٹریاٹ قائم کرتے ہوئے حکومت میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔
اس برس کے آُغاز کے بعد پی پی پی پیٹریاٹ نے اپنی پارٹی حکمران مسلم لیگ (ق) میں ضم کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم شیر پاؤ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسلام آباد میں سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نیب کی تازہ ترین کاروائی شیر پاؤ کو حکمراں جما عت میں شامل ہونے پر مجبور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
آفتاب شیرپاؤ کے وکیل جسٹس (ر) مشتاق نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ یہ مقدمہ سیاسی نوعیت کا ہے اور اس مقدمے میں کوئی دم نہیں ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ شیرپاؤ کے وکیل جسٹس (ر) مشتاق پنجاب میں نیب کے پراسیکیوٹر جنرل بھی ہیں۔ نیب کے ضوابط کے تحت وہ نیب کے کسی ملزم کا وکیل نہیں بن سکتے۔
اس سوال کے جواب میں کہ نیب کے مقدمے میں وہ وفاقی وزیر شیرپاؤ کی وکالت کیسے کرسکتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل بننے سے پہلے وہ ان کے وکیل تھے اور قانون کے تحت انہیں پرائیوکٹ وکالت کی اجازت ہے۔