Saturday, 15 September, 2007, 04:20 GMT 09:20 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
دفاع کے بارے میں پاکستانی سینٹ کی مجلس قائمہ میں شامل حکومت اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سینٹ کے ارکان نے بیرون ملک میں قومی ایئر لائنز کی ملکیت ہوٹلوں کی نجکاری کے طریقۂ کار پر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے نجکاری کمشن کو ہدایت کی ہے کہ مجلس قائمہ کے آئندہ اجلاس تک اس کی نجکاری روک دی جائے۔
سینیٹر نثار میمن کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے کہا کہ اگر پی آئی اے کے ان نفع بخش ہوٹلوں کے نجکاری ہوئی تو یہ ایک قومی المیہ ہوگا۔
ایک اور حکومتی سینیٹر جان محمد جمالی نے کہا کہ پی آئی اے کو پاکستان سٹیل ملز کی طرز پر نجکاری سے بچایا جائے، یہ نہ ہو کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا جائے۔
پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز سے تعلق رکھنے والی سینیٹر رخسانہ زبیری نے کہا کہ اس حکومت کی مدت پوری ہونے والی ہے اور اب مزید نجکاری کا مینڈیٹ اس حکومت کے پاس نہیں ہے۔
نجکاری کمشن کے سیکرٹری احمد جواد نے کمیٹی کو بتایا کہ نجکاری کمشن، پی آئی اے، وزارت دفاع سمیت تمام متعلقہ اداروں نے پی آئی اے کو رقم فراہم کرنے اور مالی بحران سے نکالنے کے لیے دونوں ہوٹلوں کی نجکاری کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹیر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ روزویلٹ ہوٹل کی فروخت میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی اثاثہ ہے اور اس کو قومی ملکیت میں ہی رہنا چاہئے۔
کمیٹی کے اجلاس میں شریک حکومتی اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سینٹ کے ارکان نے کہا کہ ان ہوٹلوں کی نجکاری روکنے کے لیے ہمیں قرارداد لانے کے لیے وقت دیا جائے۔
چیئرمین نثار میمن نے کہا کہ قرارداد پیش نہ کی جائے بلکہ ان کو ویسے ہی ہدایات جاری کر دیتے ہیں جس پر کمیٹی کے ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کرنے لگے تو مجلس قائمہ کے چیئرمین نے صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے نجکاری کمشن کو ہدایت کی کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے انعقاد تک پی آئی اے کے روز ویلٹ اور سکریب ہوٹل کی فروخت کے حوالے سے تمام اقدامات روک دیئے جائیں۔