http://bbc.com.im/urdu/

بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’نواز شریف کو دھوکے سے جدہ بھیجا‘

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے نواز شریف کو دھوکے سے جدہ روانہ کیا۔

بی بی سی اردو سروس کے شفیع نقی جامی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی میاں نواز شریف صاحب سے جدہ میں بات ہوئی۔’وہ انتہائی ناراض اور غصے میں تھے کہ جس طریقے سے جنرل مشرف اور ان کے حواری نواز شریف کے ساتھ اسلام آباد ائرپورٹ پر پیش آئے ہیں اس سے پاکستان کی تاریخ میں ایک اور دکھ بھرے باب کا اضافہ ہوا ہے۔‘

شہباز شریف کے مطابق اسلام آباد پہنچنے پر نواز شریف ایک گھنٹے سے زیادہ طیارے میں ہی رہے اور جب وہ وہاں سے نکل کر لاؤنج میں آئے تو ادھر کچھ سرکاری لوگ آئے اور اپنا تعارف کروایا کہ وہ نیب کے آفیشلز ہیں اور فلاں فلاں کیس میں نواز شریف کو گرفتار کر رہے ہیں۔

شہباز شریف کے مطابق سابق وزیر اعظم کو دھکے دے کر وہاں سے نکالا گیا اور کہا گیا کہ ’آئیے آپ کو فلاں جیل میں لے کر جانا ہے۔ اس طرح ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا۔‘

شہباز شریف نے سابق وزیرِ اعظم کے حوالے سے بتایا کہ ’جب (جہاز میں) ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تو میرا (نواز شریف کا) خیال تھا کہ کراچی لے کر جا رہے ہیں مگر میں نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کس جیل میں لے کر جا رہے ہیں کہ کہیں وہ اس بات کا احساس کریں کہ شاید نواز شریف پریشان ہے۔ میں نے کہاں چلیں۔ جہاں جس جیل میں بھی لے کر جا رہے ہیں آپ۔ جب ڈیڑھ گھنٹہ گزرا تو میں نے عملے کو بلوا کر پوچھا کہ بھئی اگر کراچی جانا ہے تو کراچی تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا راستہ ہے تو ڈیڑھ گھنٹہ تو گزر گیا۔ اس عملے کے شخص نے کہا کہ آپ ہمارا نام نہ لیں۔ آپ تو جدہ جا رہے ہیں۔‘

شہباز شریف کا کہنا تھا ’میں یہ ضرور کہوں گا کہ نواز شریف کی آواز بڑی بوجھل تھی، وہ بڑے دکھی تھے، میرا خیال ہے کہ شاید زندگی میں بھی اتنے بوجھل اور دکھی نہ ہوں‘۔