Tuesday, 11 September, 2007, 10:28 GMT 15:28 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان کے قومی اخبارات نواز شریف کی دوبارہ جلاوطنی کی خبروں اور تصاویر سے بھرے ہوئے ہیں۔اگرچہ حکومتی موقف بھی شامل ہے لیکن زیادہ تر خبروں، اداریوں اور کالموں میں نواز شریف کی جلاوطنی کو بظاہرتنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
روزنامہ ’نوائے وقت‘ کی شہ سرخی ہے کہ ’نواز شریف پھر جلاوطن، اسلام آباد ائر پورٹ پر گرفتار، سکیورٹی اہلکاروں کی گریبان پکڑ کر بدتمیزی، دھکے‘۔
اسی اخبار میں سابق صدر رفیق تارڑ سمیت نواز شریف کے استقبال کے لیے آنے والے مسلم لیگی رہنماؤں کو گرفتار کیے جانے کی تصاویر ہیں۔
روزنامہ ’جنگ‘ کی لیڈ ہے کہ ’نواز شریف اسلام آْباد آمد پر گرفتار دوبارہ جلاوطن‘۔ اسی اخبار میں ایک تین کالم کی تجزیاتی خبر ہے جس کی سرخی اور کیچ لائن ہے کہ ’عدلیہ کے خلاف ممکنہ حملے کا آغاز، مارشل لاء کا خطرہ بڑھ گیا۔ سپریم کورٹ کی اس سے قبل اس انداز میں تحقیر نہیں کی گئی، حکومت کا اقدام اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ براہ راست تصادم کے مترادف ہے‘۔
’ڈیلی ٹائمز‘ میں صفحہ اول پر تین کالم کی ایک بڑی تصویر میں میاں نواز شریف کو پولیس کے نرغے میں دکھایا گیا ہے۔ اہلکاروں نے انہیں بازو، کمر اور سینے سے پکڑ رکھا ہے اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ انہیں کسی جانب گھسیٹا جارہا ہے۔ اس تصویر کے سپر کیپشن میں لکھا ہے’مجھے جانے دو‘۔
اسی اخبار کی خبر ہے کہ ’سعودی عرب میں نواز شریف کو دوبارہ خوش آمدید، سابق وزیراعلیٰ کو آمد کے ساڑھے چار گھنٹے کے بعد ڈی پورٹ کیا گیا‘۔
’دی نیوز‘ کی لیڈ ہے کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے برخلاف ڈی پورٹ‘، کیچ لائن ہے کہ’نواز جدہ پہنچ گئے، کارکنوں کی جڑواں شہر میں پولیس سے جھڑپیں، شجاعت نے کہا کہ سعودی بادشاہ نے نواز کو ان کا وعدہ یاد کرایا تھا، مسلم لیگ نون نے عدالت عالیہ سے رجوع کر لیا‘۔
![]() | |
| زیادہ تر خبروں، اداریوں اور کالموں میں نواز شریف کی جلاوطنی کو بظاہرتنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے |
’ڈیلی ایکسپریس‘ کی ایک تین کالمی خبر ہے کہ نواز شریف سے ہتک آمیز سلوک، دھکے، گردن سے پکڑا گیا۔ چیف جسٹس سے بدسلوکی کی یاد تازہ کی گئی‘۔ اسی اخبار کے گروپ ایڈیٹر اور معروف کالم نویس عباس اطہر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ’سپریم کورٹ کا حکم روند دیا گیا، دو بار ملک کا وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو دھکے مارکر سعودی عرب کی طرف دھکیل دیا گیا۔ دو بار وزیراعظم رہنے والی عوامی سیاستدان بینظیر دبئی میں بیٹھ کر گنگنا رہیں ہیں: آئے گا آنے والا۔۔۔۔۔آئیے ہم سولہ کروڑ حکمران، سیاسی لیڈر، جج، وکیل اور عوام ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر زور زور سے قہقہے لگائیں‘۔
ایک دوسرے کالم نویس ہارون رشید لکھتے ہیں کہ’ایک نامقبول حکمران کے مقابلے میں ہمیشہ باغی کی پذیرائی ہوتی ہے‘۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ’نواز شریف کو بہادر شاہ ظفر نہیں بنایا جاسکتا۔ عربوں کو ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا ہوں گے، ان کی بعض باتیں ماننا ہوں گی ورنہ کلثوم نواز اور ان کے بعد شہباز شریف مظلومیت کی علامت بنیں گے‘۔
روزنامہ ’نوائے وقت‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’بے نظیر سے ڈیل اور نواز شریف کی جلاوطنی ایک ایسا تضاد ہے جسے قوم برداشت نہیں کرے گی جبکہ دوست ممالک کی مداخلت کو بھی قوم نے پسند نہیں کیا‘۔