http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 10 September, 2007, 17:09 GMT 22:09 PST

اعجاز مہر، علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’یہ معاملہ ضامنوں اورعدالتوں کاہے‘

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو حکومت کی جانب سے جدہ بھجوانے پر محتاط ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

پیپلز پارٹی پاکستان میں اپوزیشن کی واحد جماعت ہے جس نے سابق وزیراعظم کی ملک بدری کی مذمت تک نہیں کی۔

ہمارے رپورٹرز نے کیا دیکھا
واپسی کا سفر: آڈیو لاگ میں تازہ ترین
جلاوطنی سے فیصلہ: خصوصی ضمیمہ
نواز شریف آمد کی تیاریاں اور گرفتاریں
’ہمارے دو ہزار کارکن گرفتار‘
جڑواں شہروں میں گہما گہمی نہیں
میاں دے نعرے وجن گے۔۔ لاہور میں استقبال کی تیاریاں

تاہم پیپلز پارٹی کی چئر پرسن کے میڈیا آفس کے اسلام آباد اور لاہور میں جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پی پی پی نے میاں نواز شریف کو ملک بدر کرنے کا معاملہ نوٹ کیا ہے اور قبل ازیں سپریم کورٹ نے جو حکم دیا تھا کہ ہر شہری کو وطن واپسی کا حق حاصل ہے وہ درست تھا‘۔

’پیپلز پارٹی نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ نواز شریف نے خود بیرونی حکومتوں سے ڈیل کا اقرار کیا ہے۔ جس کے تحت انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے جلاوطنی کے بدلے بغاوت اور ٹیکس چوری کے مقدمات میں ملنے والی سزا میں رعایت حاصل کی۔ انہوں نے خود جلاوطن رہنے، سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے اور ذرائع ابلاغ کو انٹرویو نہ دینے کا معاہدہ کیا تھا‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کی روشنی میں انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے ملک میں رہنے کا حق چھوڑ دیا تھا اور اب یہ معاملہ نواز شریف ان کے ضامنوں اور پاکستانی عدالتوں کا معاملہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس طرح کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا تھا اور اس کے نتیجے میں آصف علی زرداری کو سیاسی بنیاد پر بنائے گئے مقدمات میں آٹھ برس جیل بھگتنی پڑی تھی۔

بیان میں ترجمان نے میاں نواز شریف کا استقبال کرنے کے لیے جانے والے گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔