http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 10 September, 2007, 18:00 GMT 23:00 PST

عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

یہ توہین نہیں تضحیک ہے: اعتزاز

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف کو دوبارہ جلاوطن کرنے کا حکومتی اقدام توہین عدالت ہے اور حکومت کی اس کارروائی پر اغوا کرنے اور غیر قانونی حراست میں رکھنے کے الزامات میں مقدمات درج ہوسکتے ہیں جبکہ حکومت سے تعلق رکھنے قانون دان اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔

’یہ معاملہ ضامنوں اورعدالتوں کاہے‘
جلا وطن نواز شریف جدہ پہنچ گئے
شریف خاندان: جلاوطنی سے اب تک

سابق وزیرقانون بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو دوبارہ ملک بدر کرنا نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ اس عمل سے عدالت کی تضحیک کی گئی ہے۔ ان کے بقول نواز شریف کو جلاوطن نہیں کیا گیا بلکہ یہ ایک شہری کو اغوا کرنے کا معاملہ ہے اور یہ شہری کوئی عام آدمی نہیں ہے بلکہ ملک کا سابق وزیر اعظم ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستانی قانون کی دفعہ تین سو پینسٹھ اے کے تحت نوازشریف کو اغوا کرنے کے الزام میں کارروائی ہوسکتی ہے۔

سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود کا کہنا ہے کہ ایک شخص کو زبردستی اس کے منشا کے برعکس ایک مقام سے دوسرے مقام منتقل کرنا نہ صرف اغوا ہے بلکہ آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔

ان کے بقول نواز شریف کو معاہدے کے باوجود ملک بدر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قانون کے برعکس کیے گئے معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ایس ایم مسعود نے کہا کہ کوئی ملک اپنے شہری کو ملک بدر نہیں کرتا اور نہ ہی پاکستان کے قانون میں جلاوطن کرنے کی کوئی شق موجود ہے۔

  اٹارنی جنرل کے بقول ان کو معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف اپنی مرضی سے واپس گئے ہیں اور مرضی سے واپس جانے پر توہین عدالت نہیں ہوسکتی ہے
 

نامور ماہر قانون عابد منٹو کی رائے ہے کہ نواز شریف کے خلاف دس ستمبر کو حکومتی کارروائی نہ صرف سپریم کورٹ کے فیصلہ کی کھلی خلاف ورزی اور توہین عدالت ہے بلکہ ان کے خلاف ہونے والی کارروائی پرذمہ دار حکام کے خلاف ایک شہری کو غیرقانونی حراست میں رکھنے اور اغوا کرنے کے الزامات میں مقدمات درج ہوسکتے ہیں۔

حکمران جماعت کے سینیٹر اور سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانحھا کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے ابھی تک نوازشریف کی واپسی کے لیے دائر درخواست پر تفصلی فیصلہ نہیں دیا ہے اس لیے تفصیلی فیصلہ آنے اور اس کا جائرہ لینے کے بعد ہی اس بات کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ آیا توہین عدالت ہوئی ہے یا نہیں۔ان کے بقول یہ کہنا درست نہیں ہے کہ نوازشریف کو جلاوطن کرنے کے اقدام پر اغوا کا مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کا کہنا ہے کہ انہیں ان حالات کا علم نہیں جن میں نواز شریف دوبارہ سعودی عرب گئے ہیں۔ان کے بقول میڈیا پر وزیر اعلیْ پنجاب چودھری پرویز الہیْ کے بیان سے ان کو معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف اپنی مرضی سے واپس گئے ہیں اور مرضی سے واپس جانے پر توہین عدالت نہیں ہوسکتی ہے۔

جسٹس (ر) طارق محمود کی رائے ہے کہ نوازشریف کو وطن واپسی پرگرفتار کرکے دوبارہ جلاوطن کرنا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف وزری ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ دس ستمبر کو ہونے والے واقعے کے بعد ملک کی تاریخ میں ایک اور سیاہ دن اضافہ ہوا ہے۔ان کے بقول نوازشریف کی دوبارہ ملک بدری کے واقعہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ ملک میں آئین اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔