Sunday, 09 September, 2007, 12:01 GMT 17:01 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے ایک سرکاری چیک پوسٹ پر حملہ کرکے دو اہلکاروں کو اغواء کرلیا ہے۔
دوسری طرف باجوڑ سے ملحقہ قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں صافی قبائل اور مبینہ طالبان کے مابین ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت مقامی جنگجوؤں نے علاقے میں سرکاری املاک اور اہلکاروں کو نقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
باجوڑ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی شام نواگئی تحصیل کے علاقے چارمنگ میں نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے خاصہ دار فورس کی ایک چوکی پر راکٹ لانچروں سے حملہ کیا جس سے چوکی کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق مسلح افراد چوکی میں موجود خاصہ دار فورس کے دو اہلکاروں کو بھی بندوق کی زد پر اغواء کر کے اپنے ساتھ لےگئے۔
گزشتہ روز بھی باجوڑ کے صدر مقام خار کے علاقے انزرئی میں لیویز کی چوکی پر میزائل حملے میں صوبیدار اور ایک سپاہی زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب علماء اور قبائلی عمائدین پر مشتمل پچاس رکنی کمیٹی حکومت اور مبینہ مقامی طالبان کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کے بعد فریقین کو ایک عارضی صلح پر رضامند کر لینے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ نے اہلکاروں کے اغواء کے بعد چودہ افراد کو علاقائی ذمہ داری کے تحت حراست میں لیا ہے۔
ادھر قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں صافی قبائل اور مبینہ مقامی طالبان کے مابین ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت عسکریت پسندوں نے علاقے میں قیام امن کی خاطر سرکاری املاک اور اہلکاروں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کردی ہے۔
طالبان کو بے جا تنگ کیا گیا تو |
ان کے مطابق جرگے نے عسکریت پسندوں کو ُباور کرایا کہ حکومت کی طرف سے طالبان کو بے جا تنگ کیے جانے یا ان کے خلاف کارروائی کی صورت میں صافی قبائل انتظامیہ کا ساتھ نہیں دیں گے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل مہمند ایجنسی میں خود کو طالبان کہنے والے ایک مسلح گروہ نے مہمند سکوؤُٹس کے دس اہلکاروں کو اغواء کیا تھا جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ایک قبائلی جرگے کی کوششوں سے سکوؤٹس اہلکاروں کو آزاد کرایا گیا۔