Sunday, 09 September, 2007, 16:33 GMT 21:33 PST
ایوب ترین
کوئٹہ
وکلاء نیشنل ایکشن کمیٹی کی اپیل پر بلوچستان میں فوجی آپریشن ، ماورائے آئین و قانون گرفتاریوں کے خلاف وکلاء پیرکو بلوچستان میں عدالتوں کا مکمل جبکہ ملک کے دیگر صوبوں میں علامتی بائیکاٹ کریں گے۔
بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بازمحمد کاکڑ ایڈووکیٹ نائب صدر صابر جمیل ایڈووکیٹ اور دیگر عہدیداروں نے اتوار کی شام کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری تحریک کا دوسرا حصہ ہے جس کے تحت بلوچستان میں لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، ماورائے آئین و قانون گرفتاریوں اور اقدامات کے خلاف ملک گیر سطح پر عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے اور یہ فیصلہ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور نیشنل ایکشن کمیٹی کی سطح پر کیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف اور لاپتہ افراد کے ورثاءکے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دس ستمبر کو ملک بھر میں گیارہ بجے کے بعد ٹوکن ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن بلوچستان میں وکلاءکی جانب سےعدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاجی جلوس اورمظاہرے کیے جائیں گے۔
باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ سینٹرل جیل کراچی میں انہوں نے اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے بلوچستان کے سابق وزیراعلٰی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کےسربراہ سردار اختر جان مینگل سے ملاقات کی ۔
جنرل پرویزمشرف پرتنقید کرتے ہوئے بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدرنے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ آج ایران افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات درست نہیں ۔
اندرونی سطح پر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین سو سے زائد فوجی اپنے ہی ملک کے قبائلی علاقے میں یرغمال ہیں اور انہیں بازیاب نہیں کرایا جاسکا اورکوئٹہ میں امن وامان کے نام پر جگہ جگہ چوکیاں قائم ہیں جبکہ شہر کو عملاً فوج کے حوالے کردیا گیا ہے ۔
باز محمد کاکڑ نے مزید کہا کہ جنرل پرویز مشرف طاقت کے بل پر مزید اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکتے اور ہم جنرل مشرف کو نہ وردی میں اور نہ ہی بغیر وردی کے ساتھ قبول کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ یہ وکلاءکی تحریک کا بنیادی ایجنڈا بھی ہے تا کہ آئندہ پاکستانی سیاست میں فوج کے کردار کا مکمل خاتمہ، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی ہو سکے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جس طرح انہوں نے وکلاءتحریک کے پہلے مرحلے میں ان کا ساتھ دیا دوسرے مرحلے میں بھی وکلاءکا بھر پور ساتھ دیں ۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے سلسلے میں انہوں نے کہا ’ہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداروں کے ساتھ ملکر بلوچستان میں تمام لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف آئینی پٹیشن دائرکریں گے‘۔
انہوں نے بلوچستان میں لاپتہ افراد کے خاندانوں سے گزارش کی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے بارے میں تمام معلومات بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں جمع کروائیں۔
نوازشریف کی آمد کے بارے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے نواز شریف کے مسئلے پر مداخلت کرنا پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے اور سعودی عرب کو ہمارے سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے ۔
ان کے مطابق وکلاءکی تحریک آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ہے ۔