Saturday, 08 September, 2007, 10:05 GMT 15:05 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے اغواء کیے جانے والے تین سو کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو دسویں روز بھی بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔ درے محسود قبائل کا مذاکراتی جرگہ اہلکاروں کی غیر مشروط طور پر رہائی کے لیے پرامید ہے۔
جرگے کے مطابق مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ جنگجو طالبان کے مطالبات سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ جرگے نے جنگجو طالبان کے مطالبات سے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ جرگے کے مطابق جرگہ اب حکومت کی جانب سے اس پر عمل کرنا یا نہ کرنے کے جواب کا منتظر ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ درے محسود قبائل کا مذکراتی جرگہ اہلکاروں کی غیر مشروط طور پر رہائی کے لیے پرامید ہے۔
اعتماد کا فقدان |
لدھا سے آنے والے احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے دو سو اسی اہلکاروں کو گیارہ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور انہیں کو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر مختلف علاقوں میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغوی اہلکاروں کی روزانہ مہمانوازی کی جاتی ہے۔ جس گاؤں میں ان کو رکھا گیا ہے اس گاؤں کے لوگ باری باری ہر روز صبح شام ان کی روایتی مہمان نوازی کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ تیس اگست کو سکیورٹی فورسز کے تین سو کے قریب اہلکاروں کو بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان نے لدھا سے اغواء کیا تھے۔ حکومت کے مطابق مغویان کی تعداد دو سو چالیس ہے لیکن بیت اللہ گروپ کے ترجمان ذولفقار کا دعویٰ ہے کہ تین سو اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا ہے جن میں چھ اہلکاروں کو تین دن پہلے رہا کردیا گیا تھا۔