Saturday, 08 September, 2007, 11:23 GMT 16:23 PST
شہزاد ملک
بی بی سی ڈاٹ کام، اسلام آباد
ملک میں دہشت گردی کےخطرے کے پیش نظرحکومت نے ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کو مذید سخت کردیا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستانی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریز اور ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں کے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ تمام ایئرپورٹس پر سیکورٹی انتہائی سخت کردیں۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق یہ ہدایات خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے ملنے والی ایک رپورٹ کی روشنی میں دی گئی ہیں جس میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان کے دفاعی لحاظ سے اہمیت کی حامل جگہوں پر دہشت گردی کے خطرات بہت بڑھ گئے ہیں۔
دستاویز میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ شدت پسند ہوائی اڈوں، ہوائی جہازوں اور صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ حکومت میں شامل دوسری اہم شخصیات اور مسافروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
وزارت داخلہ نے ہوم سیکرٹریز اور صوبوں کی پولیس کے سربراہوں اور پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر اور شمالی علاقوں کے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود ہوائی اڈوں اور دیگر اہم عمارتوں کے اردگرد حفاظتی اقدامات سخت کردیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کی واردات کو روکا جا سکے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹس کے اندر سیکورٹی کی ذمہ داری وزارت دفاع اور ائرپورٹس سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کی ہے جبکہ ائرپورٹس سے باہر امن و امان برقرار رکھنا پولیس اور دوسرے قانون نافذ کے والے اداروں کے ذمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال فروری میں اسلام آباد ائرپورٹ پر دہشت گردی کی واردات ہوچکی ہے اس لیے اس واقعہ اور ملک میں حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں کے تناظر میں ائرپورٹس کی سکیورٹی کو مذید سخت کرنا انتہائی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ یہ ہدایات ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور ورکرز نواز شریف اور شہباز شریف کی دس ستمبر کو اسلام آباد ائرپورٹ پر آمد کے سلسلے میں تیاریوں میں مصروف ہیں۔