Friday, 07 September, 2007, 13:00 GMT 18:00 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع بنوں میں پولیس کا کہنا ہے کہ پہلی مرتبہ دو خواتین کو ’جسم فروشی‘ میں ملوث ہونے کے الزام کے تحت گلا کاٹ کر ہلاک کردیا گیا ہے۔
بنوں کے ایک ذمہ دار پولیس آفسر نے بی بی سی کوبتایا کہ پولیس کو جمعہ کی صبح شہر سے تقریباً پچیس کلومیٹر مغرب کی جانب مومن خیل کے علاقے میں دوخواتین کی سر کٹی لاشیں ملی ہیں۔ ان کے بقول ان خواتین کو جمعرات کی شب بعض نامعلوم مسلح افراد نےاغواء کیا تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لاشوں کے ساتھ ’جسم فروشی کا انجام‘ کے عنوان کے تحت اردو زبان میں لکھا گیا ایک خط بھی ملا ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے قتل کیے جانے والی دونوں خواتین مبینہ طور پر ’جسم فروشی‘ میں ملوث تھیں۔ خط میں ان خواتین کے نام بھی ظاہر کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ’مقتول خواتین کو بنوں میں اس وقت مقامی طالبان نے اغواء کیا تھا جب وہ مبینہ طور پر ’جسم فروشی‘ میں ملوث تھیں‘۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جنسی کاروبار‘ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے والی دیگر خواتین کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔
تاہم آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہےکہ آیا ان خواتین کے مبینہ اغواء میں طالبان ملوث ہیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں مبینہ مقامی طالبان سے بھی بارہا رابطہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔
’جسم فروشی‘ پر قتل کا پہلا واقع |
واضح رہے کہ جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کےدوران خواتین کو مبینہ ’جسم فروشی‘ میں ملوث ہونے پرگلا کاٹ کر ہلاک کرنے کا یہ پہلا واقع ہے۔ اس سے قبل متعدد افراد کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے الزام میں گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا ہے۔