Friday, 07 September, 2007, 14:40 GMT 19:40 PST
انتخاب امیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شکردرہ (ضلع کوہاٹ)
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے انتخاب امیر نے صوبہ سرحد کے اضلاع کوہاٹ اور کرک میں مقامی لوگوں پرگزشتہ برسوں میں تیل اور گیس کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کے اثرات جاننے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مشاہدات اور متعلقہ اداروں اور مقامی لوگوں سے گفتگو پر مبنی یہ دوسرا مضمون ہے۔ اس سلسلے کا پہلا مضمون ذیل میں لنک کی شکل میں دیا گیا ہے۔
معروف جان کی ایک سو بانوے کنال قابلِ کاشت اراضی سے کچھ ہی فاصلے پر تیل و گیس کے زخائر دریافت ہوئے ہیں جن کی بدولت بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ حکومتِ صوبہ سرحد کو گزشتہ چند سالوں سے خاطر خواہ مالی فائدہ ہو رہا ہے، لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔
ان میں سے کچھ اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ وہ زراعت سے حاصل ہونے والی آمدن سے محروم ہوگئے ہیں تو کچھ کم کرائے کا گلہ کر رہے ہیں۔
لُوٹ کا مال |
قدرتی ذخائر کی دریافت کے لیے شروع ہونے والی سرگرمیوں کے تناظر میں جب متعلقہ سرمایہ کار کمپنی کے اہلکاروں نے معروف جان کے خاندان سے اُن کی زمین کے حصول کے لیے رابطہ کیا تو اُن کے بیٹوں نے والدہ کے ایماء سے اراضی ایک تحریری معاہدے کے تحت سالانہ کرائے کی بنیاد پر کمپنی کے سپُرد کر دی۔
کمپنی کے ساتھ معاہدہ کے حوالے سےمعروف جان کا جہاں یہ خیال تھا کہ کرائے کی مد میں لگی بندھی آمدن ہوتی رہے گی، وہیں اِس عُمر رسیدہ خاتون کے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ اُس کے بیٹے اور پوتے کے لیے علاقے میں آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹیڈ ( او جی ڈی سی ایل) کے زیرِ انتظام چلنے والے چندہ آئل اینڈ گیس فیلڈ میں نوکریوں کا بندوبست بھی ہو سکےگا۔
لیکن معاہدہ کرنے کے آٹھ ماہ بعد معروف جان کی مالی خوشحالی کے حصول کی خواہش غم و غُصہ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وجہ پوچھنے پر ڈانٹتے ہوئے معروف جان نے کہا ’ لُوٹ کا مال تھا جو میری زمین پندرہ سو روپے سالانہ فی کنال کے حساب سے کمپنی نے لے لی اور میرے بیٹے اور پوتے کو نوکری بھی نہیں دی۔‘
![]() | |
| معروف جان کا کہنا ہے کہ اراضی کرائے پر دینے کے بعد وہ قرضہ لینے پر مجبور ہوگئ ہیں |
او جی ڈی سی ایل کے شکر درہ میں فیلڈ منیجر محمد عارف نے بی بی سی کو بتایا کہ کمپنی نے تمام مالکانِ زمین کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل کیا ہے۔
البتہ معروف جان کا معاملہ اب سِول کیس کی صورت میں جوڈیشل میجسٹریٹ ضلع کوہاٹ کی عدالت میں ہے جہاں انہوں نے مالی نقصان کے مداوے کے لیے عدالت سے درخواست کی ہے۔
معروف جان کی بپتا سے ملتی جُلتی کئی کہانیاں شکردرہ کے علاوہ قریب ہی واقع ضلع کرک میں بھی سُننے کو ملتی ہیں۔ ضلع کرک میں واقع گُرگُری اور دیگر مقامات، جہاں غیرملکی کمپنی نے سرمایہ کاری کی ہے، وہاں بھی ترقی اور معاشی خوشحالی کے نئے مواقع نے علاقے کے عوام مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
طے شُدہ ریٹ |
معروف جان کا کہنا ہے کہ جتنے پیسے گُرگُری اور ضلع کرک میں دوسری جگہوں پر زمین مالکان کو سالانہ کرایہ کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں کم از کم اتنی رقم شکر درہ میں بھی دی جانی چاہیے۔
اس حوالے سے جب فیلڈ منیجرمحمد عارف سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ’شکردرہ میں مالکانِ زمین کو پورے ملک میں طے شُدہ ریٹ (نرخ) کے تحت رقم ادا کی جا رہی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ او جی ڈی سی ایل نے جتنی بھی زمین لی ہے اُس کی رقم مالکان کو ایک سال کے ایڈوانس کے طور پر سال کے شروع ہی میں ادا کردی جاتی ہے۔
شکردرہ میں گُرگُری کے مقابلے میں زمین مالکان کو کم کرایہ دیے جانے کے حوالے سے او جی ڈی سی ایل کے ذرائع کا ماننا ہے کہ شکر درہ میں کم کرایہ دیا جا رہا ہے۔
ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ ’گُرگُری میں سرمایہ کاری کرنے والے ہنگری کے ایم او ایل گروپ نے اپنے رولز کے مطابق زمین کرایہ پر لی ہے جبکہ پاکستانی کمپنی کے نرخ پورے پاکستان میں کم ہیں۔‘
زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم عوام نے اپنے مسائل کے حل اور معاشی خوشحالی کے حصول کے لیے تیل و گیس کی دریافت کے بعد حکومت کی بجائے سرمایہ کار کمپنیوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔
![]() | |
| الزامات کے برعکس محکمے کا کہنا ہے کہ ایک پیداواری یونٹ میں چار سو میں سے ڈھائی سو سے زائد ملازمین مقامی ہیں |
زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں سے کیے گئے انٹرویوز میں یہ بات سامنے آئی کہ عوام حکومت سے زیادہ سرمایہ کار کمپنیوں کو اپنی معاشی ابتری کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
پینے کا پانی |
عوامی شکایات کو رد کرتے ہوئے فیلڈ منیجر محمد عارف نے کہا کہ ان کی کمپنی ساڑھے چار لاکھ روپے کی لاگت سے علاقے میں پینے کے پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر مہینے پانی کے نہ صرف ایک ہزار ٹینکر تقسیم کرتی ہے بلکہ بتیس ہزار روپے ماہوار کی ادویات بھی مقامی سرکاری ہسپتال کو فراہم کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ شکردرہ کو پینتیس کلومیٹر دور واقع دریائے سندھ سے پینے کا پانی مہیا کرنے کے لیے ایک منصوبہ بھی شروع کیا جانے والا ہے جس کے لیے سروے کر لیا گیا ہے اور جلد ہی حکمتِ عملی مرتب کرکے کام شروع کر دیا جائے گا جوکہ دو سالوں میں مکمل ہوگا۔ جس کا مطلب ہے کہ دو سالوں تک علاقے کی اسی ہزار آبادی کا بیشتر حصہ ٹینکروں کے ذریعے پانی حاصل کرتا رہے گا۔