http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 07 September, 2007, 09:27 GMT 14:27 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

شریف فیملی کیسز، سماعت ملتوی

قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ نیب آرڈینینس کی دفعہ چوبیس سی کے تحت چئرمین نیب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرسکتے ہیں۔

عدالت کے جج چوہدری خالد محمود نے کہا کہ اس سے انکار نہیں ہے کہ نیب کے چیئرمین کے پاس صوابدیدی اختیار ہے۔

شریف خاندان، نیب مقدمے پھر شروع
نواز، شہباز شریف وطن واپس آ سکتے ہیں
’وہیں اتریں گے جہاں سے بھیجا گیا تھا‘

ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ شریف برادران کی ملک میں واپسی دس ستمبر کو متوقع ہے اور جب بھی وہ پاکستان آئیں تو انہیں فوری طور پر گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے ان مقدمات کی سماعت تیرہ ستمبر تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ شریف برادران کے خلاب نیب کے تین مقدمات ہیں جن میں حدبیہ پیپر ملز، اتفاق فونڈری اور رائے ونڈ میں غیر قانونی اثاثہ جات شامل ہیں۔ یہ تمام مقدمات سنہ دوہزار میں درج کیے گئے تھے۔ بعدازاں عدالت نے بارہ اپریل سنہ دو ہزار ایک میں نیب کی درخواست پر ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی تھی۔

میاں محمد شریف مرحوم کا نام خارج
  گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے نیب کی طرف سے یہ درخواست منظور کر لی کہ نواز شریف کے مرحوم والد میاں محمد شریف کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیا جائے
 

ذوالفقار بھٹہ کے مطابق حدبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نو افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن میں میاں محمد شریف مرحوم، نواز شریف، شہباز شریف، میاں عباس شریف، حسین نواز، حمزہ شہباز، شمیم اختر بیوہ محمد شریف، صبیحہ عباس زوجہ میاں عباس شریف اور نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر زوجہ محمد صفدر شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اتفاق فونڈریز کے مقدمے میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں میاں محمد شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مختار حسین اور کمال قریشی شامل ہیں جبکہ رائے ونڈ میں واقع اثاثہ جات کے مقدمے میں میاں محمد شریف ان کی اہلیہ شمیم اختر اور میاں نواز شریف نامزد ملزم ہیں۔

واضح رہے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے نیب کی طرف سے یہ درخواست منظور کر لی کہ نواز شریف کے مرحوم والد میاں محمد شریف کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔ تاہم عدالت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات کے فیصلے میں اگر میاں شریف کے ذمے کوئی ادائیگی نکلی تو ان کے قانونی ورثاء سے حاصل کی جائے گی جس پر عدالت نے کہا کہ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو عدالت میں اس ضمن میں دوبارہ درخواست دی جائے۔

نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات کا فیصلہ حکومت کرے گی کہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف اور ان مقدمات میں ملوث دیگر افراد کے وارنٹ گرفتار ی کب جاری کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا جائے گا جو انہوں نے شریف برادران کی وطن واپسی کے حوالے سے دیا ہے۔