Friday, 07 September, 2007, 09:27 GMT 14:27 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ نیب آرڈینینس کی دفعہ چوبیس سی کے تحت چئرمین نیب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرسکتے ہیں۔
عدالت کے جج چوہدری خالد محمود نے کہا کہ اس سے انکار نہیں ہے کہ نیب کے چیئرمین کے پاس صوابدیدی اختیار ہے۔
واضح رہے کہ شریف برادران کے خلاب نیب کے تین مقدمات ہیں جن میں حدبیہ پیپر ملز، اتفاق فونڈری اور رائے ونڈ میں غیر قانونی اثاثہ جات شامل ہیں۔ یہ تمام مقدمات سنہ دوہزار میں درج کیے گئے تھے۔ بعدازاں عدالت نے بارہ اپریل سنہ دو ہزار ایک میں نیب کی درخواست پر ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی تھی۔
میاں محمد شریف مرحوم کا نام خارج |
انہوں نے بتایا کہ اتفاق فونڈریز کے مقدمے میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں میاں محمد شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مختار حسین اور کمال قریشی شامل ہیں جبکہ رائے ونڈ میں واقع اثاثہ جات کے مقدمے میں میاں محمد شریف ان کی اہلیہ شمیم اختر اور میاں نواز شریف نامزد ملزم ہیں۔
واضح رہے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے نیب کی طرف سے یہ درخواست منظور کر لی کہ نواز شریف کے مرحوم والد میاں محمد شریف کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔ تاہم عدالت نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات کے فیصلے میں اگر میاں شریف کے ذمے کوئی ادائیگی نکلی تو ان کے قانونی ورثاء سے حاصل کی جائے گی جس پر عدالت نے کہا کہ اگر ایسی کوئی بات ہوئی تو عدالت میں اس ضمن میں دوبارہ درخواست دی جائے۔
نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات کا فیصلہ حکومت کرے گی کہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف اور ان مقدمات میں ملوث دیگر افراد کے وارنٹ گرفتار ی کب جاری کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیا جائے گا جو انہوں نے شریف برادران کی وطن واپسی کے حوالے سے دیا ہے۔