Friday, 07 September, 2007, 18:58 GMT 23:58 PST
انتخاب امیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد
اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مدرسوں سے تعلق رکھنے والے طلباء نے لال مسجد کھلوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لیے اکھٹے ہونے والے سینکڑوں طلباء کو جب انتظامیہ کی طرف سے لال مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ ملی تو انہوں نے باہر سڑک پر نماز ادا کی۔
دوسری طرف نمازِ جمعہ سے کافی دیر پہلے طلباء نے لال مسجد کے قریب واقع رحمانیہ مسجد کے باہر جمع ہونا شروع کر دیا تھا۔ ایک بجے کے قریب سینکڑوں طلباء پر مشتمل جلوس نے نعرے لگاتے ہوئے لال مسجد کی جانب بڑھنا شروع کیا تو جلوس کے منتظمین نے موقع پر موجود انتظامی افسران کو متنبع کیا کہ وہ لال مسجد میں نماز ادا کیے جانے کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔
موقع پر موجود سٹی مجسٹریٹ اور پولیس افسران کی جانب سے مسلسل انکار کے بعد جلوس کے منتظمین نے نماز پڑھنے کے لیے لال مسجد کی جانب بڑھنا شروع کیا۔ صورتِحال کے نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اسلام آباد کی سول انتظامیہ نے طلباء کو مسجد کے باہر سڑک پر نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی۔
دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس صورتِحال کے دوران جلوس کے منتظمین نے انتظامیہ کی جانب سے مطالبات منظور نہ کیے جانے کے باوجود تصادم سے گریز کیا۔ جلوس کے منتظمین کی جانب سے بار بار اعلانات کیے جاتے رہے کہ شرکاء پُر امن رہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے کل رحمانیہ مسجد اسلام آباد سے گرفتار کیے گئے پانچ ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
نمازِ جمعہ کے بعد لال مسجد کے فوجی آپریشن کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت اور لال مسجد کے سابقہ خطیب مولانا عبدالعزیز کی رہائی کے لیے دُعا کی گی اور اعلان کیاگیا کہ لال مسجد کو نمازیوں کے لیے کھلوانے کے لیے سُپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ فراست علی نے ان اطلاعات کو رد کیا کہ انتظامیہ نے لال مسجد کا پرانا رنگ (لال) بحال کرنے کے حوالے سے طلباء کا مطالبہ مان لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ چاہتی ہے کہ مسجد کو رمضان سے پہلے نمازیوں کے لیے کھول دے ’لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے والی صورتِحال دوبارہ نہ بنے اور مسجد کے کھلنے سے امن و امان کا مسئلہ نہ پیدا ہو‘۔