عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
حکومت پاکستان نے سب سے بڑے افغان مہاجر کیمپ جلوزئی میں مقیم مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے مقرر ڈیڈ لائن میں چھ ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔
جمعہ کو وزارت سیفران، یو این ایچ سی آر اور افغان مہاجرین کے رہنماؤں نے پشاور میں منعقدہ تقریب کے دوران ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت حکومت پاکستان نے جلوزئی افغان مہاجر کیمپ کی بندش میں چھ ماہ کی توسیع کردی ہے۔
معاہدے کے مطابق صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں واقع جلوزئی کیمپ میں مقیم افغان مہاجرین کی وطن واپسی یکم مارچ دو ہزار آٹھ سے شروع ہوگی اور اگلے سال تیس اپریل تک کیمپ کو مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیفران کے سیکریٹری ساجد حسین چھٹہ نے کہا کہ رمضان المبارک اور سردی کی وجہ سے ڈیڈ لائن میں توسیع کی گئی ہے۔ ان کے بقول کہ جو افغان مہاجرین وطن جانا نہیں چاہ رہے ہیں انہیں حکومت پاکستان ملک کے دیگر مقامات میں بسانے کے لیے تیار ہے۔
صوبہ سرحد میں کمشنر افغان مہاجرین ناصر اعظم نے اس موقع پر اپنےخطاب میں کہا کہ رواں سال کے دوران تقریباً دو لاکھ پچاسی ہزار افغان مہاجرین وطن واپس جاچکے ہیں جب کہ ایک لاکھ گیارہ ہزار مہاجرین پر مشتمل جلوزئی کیمپ سے پچیس ہزار مہاجرین افغانستان چلے گئے ہیں۔
![]() | |
| حکومت پاکستان کافی عرصے سے افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیجنے کی کوشش کررہی ہے |
پاکستان میں تقریباً دو ملین افغان مہاجرین آباد ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرکیمپ مبینہ طور پر شدت پسندوں کی پناہ گاہ بن چکے ہیں تاہم کیمپ کے رہائشی اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔