شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سپریم کورٹ نے صدر کے دو عہدے رکھنے کے خلاف جماعت اسلامی کی آئینی درخواست کی باقاعدہ سماعت سترہ ستمبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم سات رکنی بنچ نے جو اس پٹیشن کی سماعت کر رہا ہے فیصلے میں سینئر وکلاء اعتزاز احسن، ایس ایم ظفر اور عبدالحفیظ پیرزادہ کو عدالت کی معاونت کے لیے کہا ہے۔
درخواست کی سماعت کے خلاف دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت سماعت نہیں ہوسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ درخواست قبل از وقت ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف آئندہ صدارتی انتخابات میں وردی میں یا وردی کے بغیر حصہ لے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر اس کے علاوہ آرمی چیف کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔
پٹیشن بدنیتی ہے |
اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں دو عہدے رکھنے کی گنجائش ہے اور پرویز مشرف صدر کے ساتھ آرمی چیف کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر سے انکار کیا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے کا قانون امتیازی ہے اور اس سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کسی ایک شخص کے لئے بھی ترامیم کی اجازت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس پٹتشن کو سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا تو اس سے آئندہ ہونے والے صدارتی اور عام انتخابات متاثر ہوسکتے ہیں۔
صدر کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے اٹارنی جنرل کے دلائل کی تائید کی اور کہا کہ صدر کے دو عہدوں کے حوالے سے سنہ دوہزار پانچ میں پاکستان لائرز فورم کی پٹیشن پر فیصلہ آچکا ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس پٹیشن کی سماعت روک دی جائے۔
صدر کے حلف لینے تک |
اس آئینی درخواست میں صدر کے دو عہدے رکھنے کے قانون کو چیلنج کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی کے وکیل اکرم شیخ نے بدھ کو اپنے دلائل میں کہا تھا کہ وہ اس پٹیشن کے ذریعے صدر کے دو عہدے رکھنے سے متعلق دو ہزار چار کے ایکٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ جنرل مشرف اصل صدر نہیں انہیں حالات نے صدر بنا دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پرویز مشرف کے نام سے ترمیم کی ہے جبکہ یہ سہولت آرمی چیف کو دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ صدارتی انتخابات میں آئین کی دفعہ دو سو چوالیس کا مکمل اطلاق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صدر وردی یا وردی کےبغیر صدارتی انتـخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے امتیازی قوانین سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
عدالت نے آغاز میں جب اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ وہ کوئی تحریری جواب دیں گے تو انہوں نے کہا کہ وہ اس پر بحث کریں گے۔
جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما بھی کمرہ عدالت میں سماعت کے دوران موجود تھے۔
سات رکنی بنچ چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس میاں شاکر اللہ جان، جسٹس ایم جاوید بٹر اور جسٹس راجہ فیاض احمد شامل ہیں۔