http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 05 September, 2007, 12:47 GMT 17:47 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

باجوڑ، سوات حملے سرکاری افسر زخمی

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی اور ضلع سوات میں پولیس چوکی اور گرلز سکول پر ریموٹ کنٹرول اور دستی بم سے حملے کیے گئے ہیں جن میں بیت المال افسر سمیت دو سرکاری اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔

باجوڑ کے صدر مقام خار سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں بیت المال دفتر کے انچارج محمود جان بدھ کی صبح گھر سے دفتر جارہے تھے کہ پلانگ کے علاقے میں سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹنے سے شدید زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد اعلیٰ سرکاری حکام موقع پر پہنچے اور سرکاری اہلکار کو پشاور منتقل کیا گیا۔

باجوڑ ایجنسی میں اٹھارہ ہلاک

باجوڑ میں سرکاری چیک پوسٹوں اور حکومتی اہلکاروں پر نامعلوم افراد کی طرف سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ چند روز قبل بھی باجوڑ میں ایک مبینہ خودکش حملے میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکاروں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری بھی شامل تھے جو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

اس واقعہ کے بعد باجوڑ میں سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور مقامی انتظامیہ نے رات کے وقت گھروں سے نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔

ادھر صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پولیس چوکی اور گرلز سکول پر بم حملوں میں ایف سی کے ایک اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

سوات کے گرلزسکول پر بم حملہ
 سوات کے علاقے مٹہ میں نامعلوم افراد نے رات کے وقت گرلزسکول پر دستی بم سے حملہ کیا جس سے سکول کی عمارت کو نقصان پہنچا تاہم سکول بند ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے
 

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلا واقعہ منگل کی رات بنڑ کے علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے پولیس چوکی کو ایک بم حملے میں نشانہ بنایا جس سے ایف سی کے ایک اہلکار زخمی ہو گئے۔ اس واقعہ سے ایک رات قبل سوات کے علاقے مٹہ میں نامعلوم افراد نے رات کے وقت گرلزسکول پر دستی بم سے حملہ کیا جس سے سکول کی عمارت کو نقصان پہنچا تاہم سکول بند ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ لال مسجد کے واقعہ کے بعد سوات میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔