http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 03 September, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

باوردی صدر: سماعت پانچ کو

سپریم کورٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف کے بیک وقت دو عہدوں پر فائز رہنے، آئین میں سترہویں ترمیم اور باوردی صدر کے قانون کےخلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیل کی سماعت پانچ ستمبر کو ہوگی۔

سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ نظر ثانی کی اس اپیل کی سماعت کرے گا۔

وکلاء کی تنظیم پاکستان لائرز فورم نے عدالت عظمیٰ کے دو سال قبل ہونے والے ایک فیصلے پر اٹھائیس اگست کو نظر ثانی کرنے کے لیے یہ درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت نے وکلاء کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا تھا کہ صدر مشرف نہ تو بیک وقت دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی باوردی فرد ملک کا صدر بن سکتا ہے۔

آئین میں سترہویں ترمیم کو بھی اصل پٹیشن میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر جسٹس ناظم حسین صدیقی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اپنے 24 جون 2005 کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ آئین میں ترمیم پارلیمنٹ کا حق ہے۔ اس بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل تھے۔

 پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوارالحق نے صدر جنرل پرویز مشرف کے اسی اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے حق کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے اپنی آئینی پٹیشن میں استدعا کی ہے کہ عدالت اس پٹیشن پر فیصلہ آنے تک صدارتی انتخاب کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے
 

نظرثانی کی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے اے کے ڈوگر نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ اصل پٹیشن پر فیصلہ پانچ رکنی بینچ نے دیا تھا لہذا اس سے چھوٹا بینچ نظرثانی کی اس اپیل کی سماعت نہیں کر سکتا۔

عدالت نے اے کے ڈوگر کا موقف تسلیم کرتے ہوئے اس پٹیشن کو سات رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔

واضح رہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے مرکزی چیئرمین انجینئر جمیل ملک اور پمز ہسپتال کے ایک سابق ڈاکٹر انوارالحق نے بھی صدر جنرل پرویز مشرف کے اسی اسمبلی سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے حق کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے اپنی آئینی پٹیشن میں استدعا کی ہے کہ عدالت اس پٹیشن پر فیصلہ آنے تک صدارتی انتخاب کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے۔

ڈاکٹر انوار الحق نے اکتیس اگست کو دائر ہونے والی اپنی پٹیشن میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اگر جنرل پرویز مشرف کو وردی میں الیکشن لڑنے کی اجازت ہے تو دوسرے سرکاری ملازمین کو بھی یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ملازمت میں رہ کر الیکشن میں حصہ لیں۔