عباس نقوی
کراچی
لاپتہ افراد کی رہائی کے لئے بنائی گئی تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر خفیہ اداروں کی تحویل سے رہائی پانے والے افراد کو سرکاری اہلکار ہراساں کر رہے ہیں اور وہ رہائی پانے کے باوجود وہ مکمل آزاد نہیں ہیں۔
کراچی میں ہونے والی پریس کانفرنس میں ڈیفنس آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن پاکستان کی چیئرپرسن آمنہ جنجوعہ اور چیف آرگنائزر خالد خواجہ کے علاوہ عبدالحلیم صدیقی بھی موجود تھے۔
پنجاب کے شہر صادق آباد سے تعلق رکھنے والے عبدالحلیم اُن پاکستانیوں میں شامل ہیں جنہوں نے کیوبا میں واقع امریکی قید خانےگوانتاناموبے میں ہونے والی تفتیش کا سامنا کیا ہے جنہیں مبینہ طور پر چھ برس قبل افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور پھر امریکی فوج کے حوالے کر دیا گیا۔
عبدالحلیم کے مطابق اُنہیں گوانتاناموبے کے کیمپ نمبر پانچ میں رکھا گیا اور دیگر لوگوں کی طرح اُنہیں بھی برہنہ کر دیا گیا جہاں مسلسل انتہائی کم درجہ حرارت پر ائرکنڈیشن چلایا جاتا جس کی وجہ سے خون جمتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔
گوانتانامو کے سابق قیدی |
اُن کا کہنا تھا ’ کڑی تفتیش کے بعد امریکی تفتیش کاروں نے اُنہیں بےگناہ قرار دے دیا مگر ایک کیمپ سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے میں منتقل ہوتے ہوتے مزید دوسال کا عرصہ گزرگیا اس دوران حکومتِ پاکستان کی درخواست پر گوانتاناموبے سے کئی پاکستانی رہا ہوئے۔‘
تاہم عبدالحلیم کا کہنا ہے کہ وہ اور کراچی سے تعلق رکھنے والے شاہ بابا وہ دو لوگ تھے جو ذاتی کاوشوں سے رہا ہوئے۔
عبدالحلیم کے مطابق امریکی تفتیش کے دوران افغان قیدیوں کو خصوصی طور پر پاکستان سے نفرت کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے جبکہ پاکستانیوں کو بتایا جاتا ہے کہ پاکستان بہت جلد ٹوٹ جائےگا۔ ’ہمیں امریکی قید میں ایسے دستاویزات دکھائے جاتے تھے جن میں پاکستان کا نقشہ نہیں ہوتا۔‘
’اس سیل میں ہم سے گروپس کی صورت میں پاکستانی خفیہ ادارے تفتیش کرتے رہے مگر سترہ روز یہاں بھی میں نے سورج نہیں دیکھا‘ عبدالحلیم کے مطابق تقریباً چھ برس قید میں گزارنے کے باعث انہیں بھولنے کی بیماری اس حد تک ہوگئی ہے کہ اپنے اہلِ خانہ کے فون نمبر بھی یاد نہیں رہتے، جسمانی بیماریوں میں ہرنیا کی تکلیف اور پیشاب میں خون آنا شامل ہے۔
عبدالحلیم کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے اُنہیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ نہ تو کسی تنظیم میں شامل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی بغیر اجازت شہر سے باہر جاسکتے ہیں۔
تنظیم کی چیئر پرسن آمنہ جنجوعہ کے مطابق گزشتہ ایک برس کے عرصے میں چار سو سے زائد افراد کے اہلِ خانہ نے تنظیم سے رابطہ کیا جن کے پیارے بغیر کسی مقدمے کے خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں جن میں ایک بڑی تعداد بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں کی بھی ہے۔
پریس کانفرنس کے موقع پر بعض دیگر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔