http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 03 September, 2007, 14:08 GMT 19:08 PST

ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

’مفاہمت یا آمروں کے ساتھ رقص‘

جنرل پرویز مشرف کی پانچ سالہ مدتِ صدارت ختم ہونے کو ہے اور خود کو پاکستان کے لیے ناگزیر تصور کرتے ہوئے دوبارہ منتخب ہونے کی ان کی خواہش نے پاکستان میں سیاسی ماحول کو گرمایا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں سامنے آنے والی اہم پیش رفت سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جنرل مشرف سے شراکت اقتدار کے لیے ممکنہ ’ڈیل‘ ہے، جسے اب وہ ملک میں بحالی جمہوریت کے لیے مفاہمت کہنے لگ گئی ہیں۔

لندن میں دو روز تک (اکتیس اگست اور یکم ستمبر) جاری رہنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کی مشترکہ میٹنگ کے بعد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے کہا کہ حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے کچھ عناصر نہیں چاہتے کہ مفاہمت ہو۔

تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مفاہمت کا اب کوئی امکان نہیں رہا۔ حکومتی کیمپ کی طرف سے ’مشرف بےنظیر ڈیل‘ پر تقریباً سب کچھ کہہ دینے والے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا بھی یہی کہنا ہے کہ مذاکرات کے ابھی ایک یا دو دور مزید ہونگے۔

ڈیل کے مسائل
 ڈیل صدر مشرف کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ انتخاب، تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے آئین میں ترمیم، اور بلدیاتی اداروں کی معطلی (یا برخاستگی) جیسے امور پر اٹکی ہوئی ہے
 
شیخ رشید

شیخ رشید کے مطابق ’ڈیل‘ صدر مشرف کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ انتخاب، تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے کے لیے آئین میں ترمیم، اور بلدیاتی اداروں کی معطلی (یا برخاستگی) جیسے امور پر اٹکی ہوئی ہے۔

فوجی وردی کے بارے میں بے نظیر بھٹو کہہ چکی ہیں کہ وہ صدر مشرف اتارنے پر رضامند ہو چکے ہیں، یعنی وہ آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔ شیخ رشید بھی کہتے آ رہے ہیں کہ وردی اب مسئلہ نہیں رہی۔

پیپلز پارٹی سے مفاہمت میں تعطل آ جانے پر امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حکمراں جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے بھی کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں سے اگلی پانچ سالہ مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد صدر مشرف آرمی چیف کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہو سکا تو موجودہ اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی اور نئی اسمبلیوں سے صدر منتخب ہونے تک جنرل مشرف وردی میں ہی رہیں گے۔

بےنظیر بھٹو نے بھی حکومت کے اسی ’پلان بی‘ کو بھانپتے ہوئے اور اپنے مغربی سامعین کو سامنے رکھتے ہوئے اخباری کانفرنس میں صدر مشرف سے مفاہمت میں حکمراں جماعت کے ان لوگوں کو رکاوٹ قرار دیا جو ’انتہاپسندانہ مذہبی رحجانات‘ رکھتے ہیں۔

ادھر مولانا فضل الرحمنٰ نے بھی اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں جمہوریت کی خاطر صدر مشرف کی حمایت کرنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ وگرنہ جنرل مشرف مارشل لاء لگا سکتے ہیں۔

لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان نواز مولانا فضل الرحمنٰ سے شراکت اقتدار موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں ’خودکش فیصلہ‘ ثابت ہوگا، کیونکہ وہ بطور قائد حزب اختلاف یا ’انتظار میں بیٹھی حکومت‘ کے طور پر جنرل مشرف کے لیے زیادہ سودمند ہیں۔

نو مارچ سے پہلے صدر مشرف ناقابل تسخیر طاقت کے حامل نظر آ رہے تھے۔ لیکن چیف جسٹس کے مستعفی ہونے سے انکار اور پھر وکلاء کی تحریک اور سپریم کورٹ کی طرف سے انہیں بحال کرنے کے غیر معمولی فیصلے نے وردی کے ’رعب و دبدبے‘ کو گہنا دیا ہے۔

عدالتی فعالیت نے جنرل مشرف کی طرف سے کوئی غیر آئینی راستہ اختیار کرنے کے امکان کو کافی حد تک مسددو کر دیا ہے اور اوپر سے معزول وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے حق میں فیصلہ دے کر ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

جنرل مشرف کی صدارتی مدت اس وقت ختم ہو رہی ہے جب انہیں ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینک اداروں کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ طالبان نہ صرف افغانستان میں دوبارہ منظم ہوگئے ہیں بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی ان کے پاکستانی ساتھیوں نے سکیورٹی فورسز کو بے بس کیا ہوا ہے۔

وزیرستان: فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی

اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکہ اور برطانیہ جنرل مشرف اور بےنظیر بھٹو کے درمیان شراکتِ اقتدار کے لیے سودے بازی میں دلچپسی لے رہے
طالبان نہ صرف افغانستان میں دوبارہ منظم ہوگئے ہیں بلکہ پاکستان میں بھی سکیورٹی فورسز کو بے بس کیا ہوا ہے
ہیں۔ نوجوان برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملیبینڈ اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر زلمے خلیلزاد اس حوالے سے خاصے متحرک بتائے جا رہے ہیں۔

اپنی سوانح عمری ’ڈاٹر آف دی ایسٹ‘ میں بے نظیر بھٹو پاکستان میں جمہوریت نہ پنپنے کے حوالے سے گِلہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مغرب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں ہمیشہ فوجی حکمرانوں کی حمایت کرتا رہا ہے، جس کے پاکستان اور دنیا دونوں کے لیے تباہ کن اثرات سامنے آئے ہیں۔

مغرب کے اس رحجان کو ’آمروں کے ساتھ رقص‘ کہتے ہوئے وہ سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کی ایک تقریر کا حوالہ دیتی ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’وہ جو شیر کی سواری کرتا ہے عام طور پر اس کا شکار ہو جاتا ہے۔‘

لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ مغرب کو نصحیت کرنے والی بےنظیر بھٹو اقتدار کے رقص میں اب خود ایک فوجی حمکراں کا ہاتھ تھامنے کو تیار نظر آ رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ کہ ’ڈیل‘ کے ذریعے آیا بےنظیر شیر کو اس کے پنجرے میں بند کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا خود اس کا شکار بنتی ہیں۔