Monday, 03 September, 2007, 07:49 GMT 12:49 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان
افعانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے سب ڈویژن لدھا سے سکیورٹی فورسز کے اغواء ہونے والے ڈیڑھ سو سے زائد اہلکاروں کو پانچ روز گزر جانے کے باوجود ابھی تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔
محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے تین ذیلی قبائل کے درے جرگہ نے اس سلسلے میں پولیٹکل ایجنٹ اور وانا میں فوجی حکام سے بھی ملاقات کی ہے۔
ذرائع کے مطابق فوجی حکام نے جرگہ ارکان کو یقین دلایا ہے کہ محسود قبیلے کے زیر اثر علاقے میں جن راستوں کو بند کیاگیا تھا وہ پیر سے کھول دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اجتماعی ذمہ داری کے تحت حراست میں لیے گئے افراد کو بھی رہا کر دیا جائےگا۔
حکام کے مطابق طالبان نے سکیورٹی اہلکاروں کی رہائی ان دس افراد کی رہائی سے مشروط کر دی ہے جنہیں ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملوں پھر بلوچستان کے علاقے ژوب سے عبداللہ محسود کے ساتھی ہونے کے الزام میں گرفتار کیاگیا ہے۔
طالبان کے مطابق فوجی اہلکار سراروغہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس کے تحت طالبان کے مطابق جنوبی وزیرستان میں فوج کی نقل و حرکت اور محسود علاقہ میں فوجی چوکیوں کو ختم کرنا شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو سکیورٹی فورسز کے ڈیڑھ سو سے زائد اہلکاروں کو پاکستانی طالبان کے بیت اللہ محسود گروپ نے لدھا سے اغواء کر لیا تھا۔