http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 01 September, 2007, 14:57 GMT 19:57 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرہ

زمینداروں اور کسانوں نے ہفتے کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں کہا ہے کہ ان کی فصلیں اور باغات ایک طرف سیلاب سے تباہ ہو گئے ہیں تو دوسری طرف بجلی کی بندش سے نقصان ہو رہا ہے۔

بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف آئے روز مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔

فصلوں اور باغات کی آبپاشی کے موسم میں زمیندار احتجاجی مظاہرے شروع کر دیتے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ خاص انہی دنوں میں یا تو بجلی کے کھمبوں کو دھماکوں سے اڑا دیا جاتا ہے اور یا مرمت کی غرض سے بجلی بند کر دی جاتی ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہرے میں زمینداروں اور کسانوں کے نمائندوں نے حکومت اور بجلی کے محکمے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اکثر علاقوں میں صرف نو گھنٹے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اس سے پہلے اٹھارہ گھنٹے تک لوڈ شیڈ نگ کی جاتی رہی ہے۔

ان کے مطابق گندم کی آبپاشی کے موسم میں بھی بجلی بند کر دی گئی تھی اور پھر مرمت کی غرض سے اس وقت لوڈشیڈنگ شروع کر دی گئی جب فصلوں اور باغات کو پانی دینے کا موسم تھا۔

زمینداروں کی تنظیم کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمان بازیی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے خشک سالی پھر سیلاب اور بجلی کی بندش سے زراعت اور باغبانی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

مختلف علاقوں سے آئے ہوئے زمینداروں اور کسانوں نے کہا ہے کہ زمین کی تیاری اور بیج ڈالنے کے بعد جب پانی مہیا نہیں ہوتا تو ایک زمیندار کا لاکھوں روپے کا نقصان ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خشک سالی سیلاب اور اب لوڈ شیڈنگ سے زمینداروں کا کوئی دو کھرب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

اس بارے میں بجلی کے محکمے کے ترجمان نے کہا ہے کہ اب صرف آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے اور دوسرا یہ کہ اکثر زمینداروں نے بجلی کے بل ادا نہیں کیے جس وجہ سے ان کے کنکشن کاٹ دیئے گئے ہیں۔