http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 01 September, 2007, 18:45 GMT 23:45 PST

ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پل گرنےسےہلاکتیں ،چار افسر معطل

کراچی میں سنیچر کی دوپہر ناردرن بائی پاس پل کا ایک حصہ منہدم ہو نے سے چھ افراد کی ہلاکت کے بعد نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات شمیم صدیقی نے ہفتہ کی رات گئے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چھ ہلاکتوں کی تصدیق کی اور کہا اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں گی لیکن فوری اقدام کے طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جنرل مینیجر کنسٹرکشن، جنرل مینیجر پراجیکٹ، جنرل مینیجر ڈیزائن اور ایک پراجیکٹ ڈائریکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

کراچی کا منہدم پُل
کراچی: پل گر گیا، چھ لاشیں نکال لی گئیں
کراچی میں پل گرنے سے ہلاکتیں
اور پل گرتا ہی چلا گیا: عینی شاہد

انہوں نے بتایا کہ فوجی کمپنی نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے پاس اس پل کو تعمیر کرنے کا کنٹریکٹ تھا جسے بلیک لسٹ کردیا گیا ہے جبکہ ڈیزائن کنسلٹنٹ کو بھی بلیک لسٹ قرار دے دیا گیا ہے۔

ادھر سنیچر کی رات گئے ملبے سے چھ افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ کورڈینیشن آفیسر جاوید حنیف نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ملبے تلے افراد کے زندہ رہنے کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا تھا کہ حکام کی تمام تر توجہ دو پھنسی ہوئی کاروں کو نکالنے کی طرف ہے جس کے لیے پاکستان نیوی سے بھی مدد کی درخواست کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہائیڈرولک جیک صرف نیوی کے پاس ہیں جس سے گرے ہوئے پل کو سہارا دے کر پھنسی ہوئی گاڑیوں کو نکالا جا سکتا ہے۔

شیرشاہ میں بھاری ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بنائے جانے والے اس بائی پاس پل کا گزشتہ ماہ افتتاح کیا گیا تھا اور ہفتے کی دوپہر پل کا تقریباً پانچ سوگز حصہ گر گیا جس میں نیچے سےگزر رہی کئی گاڑیاں ملبہ تلے دب گئیں تھیں۔

نادرن بائی پاس کراچی کے میگا پراجیکٹس میں سےایک ہے جس کا اسی سال اگست میں صدر پرویز مشرف نے افتتاح کیا تھا۔ اس پل کی تعمیر پر ساڑھے تین ارب روپے لاگت آئی تھی۔ یہ پل شہر میں ٹریفک کے مسائل سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا اور ٹریفک کے حالیہ مسئلے کے بعد شہر میں بھاری ٹریفک کی آمد پر پابندی عائد کر کے انہیں نادرن بائی پاس سے گزرنے کا پابند کیا گیا تھا۔