http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 31 August, 2007, 12:26 GMT 17:26 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کم منافع، پٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال

حکومت کی طرف سے فلِنگ سٹیشنز (پٹرول پمپ) کے منافعوں کی شرح میں کمی کے خلاف پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر عبدالسمیع کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے ساڑھے چار ہزار پٹرول پمپ احتجاجاً بند کر دیے گئے ہیں اور اگر ان کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو سی این جی فِلنگ سٹیشن بھی بند کر دیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایک طرف انتظامی اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے اور دوسری طرف پٹرولیم ڈیلرز کے کمیشن میں اضافے کی بجائے کمی کر دی ہے۔ سمیع خان کا کہنا تھا کہ ان پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ ہڑتال ختم کردیں مگر جب تک مطالبات پورے نہیں ہوجاتے ہڑتال جاری رہے گی۔

دوسری جانب وزارت پٹرولیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈیلروں کے منافعوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے اور وہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے حکم نامے کے تحت چار فیصد مارجن وصول کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے یقین دہانی کروائی تھی کے وہ اپنے فِلنگ سٹیشن کھلے رکھیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں تمام فِلنگ سٹیشن کھلے ہوئے ہیں۔

ادھر سمیع خان کا کہنا تھا کہ تاجر کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کرتا، مگر ان کا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کمیشن میں کٹوتی کا فیصلہ واپس لے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پانچ فیصد مارجن کا معاہدہ کیا تھا مگر گزشتہ سال اس میں چالیس پیسے کی اور اس سال بھی چالیس پیسے کی کمی کردی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارا مطالبہ ہے کہ پہلے رواں سال کی کٹوتی واپس لی جائے، جس کے بعد باقی معاملات مذاکرات کے ذریعے طے کیے جائیں گے۔‘

کراچی شہر میں بیشتر فِلنگ سٹیشن بند ہیں اور جو فِلنگ سٹیشن کام کر رہے ہیں وہاں گاڑیوں کی لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔