Thursday, 30 August, 2007, 13:33 GMT 18:33 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ صدر مشرف کی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ابھی تک کوئی ڈیل نہیں ہوئی اور اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کو پرسنٹیج میں نہیں ناپا جا سکتا۔ انہوں نے اس سلسلے میں آنے والے تمام بیانات کو قیاس آرائی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کے لیے صدر کے اختیارات کے متعلق آئین کی دفعہ اٹھاون ٹو بی نے ماضی میں مارشل لاء کا راستہ روکا ہے اور اسے برقرار رہنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں تسلسل سے آ رہی ہیں کہ مشرف اور بےنظیر کے درمیان سمجھوتہ طے پانے کے قریب ہے اور صدر اٹھاون ٹو بی کے تحت اسمبلی توڑنے کے اختیارات سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ صدر کی وردی کا فیصلہ کسی ڈیل کے نتیجے میں نہیں ہوگا بلکہ اس کا فیصلہ صدر خود کریں گے اور یہ آئین کے مطابق ہوگا۔
اس سے قبل وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کہہ چکے ہیں کہ مشرف بے نظیر ڈیل کے سلسلے میں اسی فیصد معاملات طے پا چکے ہیں اور ایک آدھ معاملے پر اتفاق رائے ہونا باقی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ ڈیل کی صورت میں کسی کی ہار جیت نہیں ہوگی بلکہ جو بھی قدم اٹھائے جائیں گے وہ جمہوریت کے فروغ کے لیے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں نہ تو کسی نے صدر مشرف کو کوئی ڈیڈ لائن دی ہے اور نہ ہی وہ کسی سے اس نوعیت کا کوئی الٹی میٹم لیتے ہیں۔
نواز شریف کی ملک واپسی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ان کے وطن واپس آنے کی صورت میں کوئی لائحہ عمل اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے خلاف مقدمات عدالتوں میں ہی ختم ہو سکتے ہیں تاہم صدر کے پاس اس ضمن میں خصوصی اختیار ہے کہ وہ کسی کے خلاف مقدمات کو ختم کر سکتے ہیں۔