http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 29 August, 2007, 17:39 GMT 22:39 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

دیر: ’ونی‘ کی شادی، پانچ گرفتار

پاکستان میں صوبہ سرحد کے ضلع دیر میں حکام کا کہنا ہے کہ تین سالہ بچی کو ونی کے طور پر دینے کے جرم میں اٹھارہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان میں سے پانچ افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

ملزمان میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی نائب امیر مولانا گل رحیم عرف ’دربار مولوی صاحب‘ بھی شامل ہیں جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

دیر سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کا کہنا ہے کہ چند روز قبل چکدرہ کے علاقے گل مقام میں ایک قبائلی جرگہ ہوا تھا جس میں پرویزخان نامی ایک مقامی شخص کی تین سالہ بیٹی کو ’ونی‘ کے تحت مخالف فریق فضل سبحان کے گھر میں دیا گیا تھا۔ جرگے کے فیصلے کے تحت بچی کا نکاخ فضل سبحان کے سات سالہ بیٹے کے ساتھ پڑھایا گیا تھا تاہم رخصتی ہونا باقی تھی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق فضل سبحان کی جانب سے پرویزخان پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے اس کی بیوی کے ساتھ مبینہ طورپر ناجائز تعلقات رکھے تھے۔ کچھ روز قبل اس مسئلے کو حل کروانے کے لیے قبائلی جرگہ بلایا گیا جس میں فیصلہ ہوا کہ بدلا صلح کے تحت پرویز خان اپنی تین سالہ بیٹی کا نکاح فضل سبحان کے بیٹے سے کرائے گا جبکہ بچی کے والد ساٹھ ہزار روپے بطور جرمانہ بھی ادا کرےگا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس جرگے کی سربراہی جمعیت علماء اسلام (ف) کے ضلعی نائب امیر مولانا گل رحیم عرف ’دربار مولوی صاحب ‘ نے کی تھی۔

دیر کے ضلعی رابط افسر ڈاکٹر عطاء الرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے اخباری اطلاعات کی روشنی میں ازخود کارروائی کرتے ہوئے جرگے میں شامل اٹھارہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا اور ان میں پانچ افراد کو بدھ کوگرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں بچی کے والد پرویز خان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ جے یوآئی کے ضلعی نائب امیر سمیت دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ سرحد میں قائم چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی حکومت نے چار سال قبل قبائلی رسم ’ سوارہ‘ یا ونی کے خلاف قانون سازی کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تاحال اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔