http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 28 August, 2007, 18:08 GMT 23:08 PST

’مشرف سے ڈیل مہنگی پڑےگی‘

پاکستان کے معروف سیاستدان اور وکیل چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ بینظیر اور نواز شریف مل کر ہی فوج کو واپس بیرکوں میں بھیج سکتے ہیں۔

منگل کو بی بی سی اردو کے سیربین میں پرگرام ٹاکنگ پوائنٹ کے دوران
جنرل مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے درمیان ڈیل کی خبروں سے متعلق کیے گئے متعدد سوالات کے جواب میں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ’یہ درست ہے کہ محترمہ بینظیر خود کہہ چکی ہیں کہ ڈیل مہنگی پڑے گی اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے پارٹی کا مورال بھی ڈاؤن ہوگا۔تاہم یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ محترمہ ایک زیرک اور جہاں دیدہ سیاستداں ہیں، ان کی زندگی سیاست میں گزری ہے اور وہ عوام کی نبض پہچانتی ہیں۔ وہ کوئی ایسی ڈیل نہیں کریں گی جس سے عوام میں مایوسی اور بددلی پیدا ہو‘۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اے آر ڈی ایک اہم اتحاد اور میثاقِ جمہوریت ایک اہم دستاویز ہے اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ اس اتحاد اور اس معاہدے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی ہی مل کر پاکستان کو ایک ایسے مہذب دور میں لے جا سکتے ہیں جہاں عسکریت پسندی نہ ہو۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ 20 جولائی کے بعد عدالتوں نے پہلی بار اپنا وہ کردار ادا کرنا شروع کیا جو انہیں ادا کرنا چاہیے۔

اس سوال کے بارے میں کہ ایسا تاثر مل رہا ہے کہ وہ مسلم لیگ نواز میں شامل ہو رہے ہیں؟ کیونکہ وہ لندن میں ہیں اور بینظیر سے ملاقات کرنے کی بجائے انہوں نے نواز شریف کے ساتھ لنچ کیا ہے،اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ لندن میں ہیں اور انہوں نے محترمہ کے سیکرٹری کو اطلاع دے دی ہے۔ وہ لندن اسی لیے آئے ہیں۔

اعتزاز احسن کے مطابق نواز شریف انہیں ازراہِ مہربانی لنچ پر لےگئے اور شہباز شریف بھی لنچ میں شریک تھے۔ لیکن اس کی وجہ یہ کہ دونوں بھائیوں سے ان کے دیرینہ مراسم ہیں اور انہیں نواز شریف نےاپنا وکیل بھی کیا جس کے بارے میں محترمہ کو بھی علم تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں وہ مسلم لیگ میں شامل ہو رہے ہیں۔