Monday, 27 August, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
علی احمد خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
صوبہ سرحد میں مانسہرہ کے مقام پر واقع تاریخی چٹانوں پر کندہ عبارت مٹتی جارہی ہے اور اسکی حفاظت کا مناسب انتظام نہیں کیا گیا تو پاکستان ایک قیمتی تاریخی ورثے سے محروم ہوجائے گا۔
انسانی تاریخ میں بہت سے حکمراں گزرے ہیں جنہوں نے بڑے کروفر سے حکومت کی ہے لیکن ان میں، بقول ایچ جی ویلز، ہندوستان کے حکمراں اشوک کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔
وہ ایک جابر اور توسیع پسند راجہ کے طور پر اقتدار میں آیا لیکن کالِنگا کی لڑائی کی ہولناکیوں نے اسکی سوچ میں ایک انقلاب بپا کردیا اور اس نے آئندہ جنگ، ظلم اور تشدد سے توبہ کرلی اور اہِنسا (عدم تشدد) کا پجاری بن گیا۔
اشوک نے ایک اچھے انسان اور ایک اچھی حکومت کے لئے کوئی چودہ اصول مرتب کیے تھے جنہیں پتھر کے ستونوں اور بڑی بڑی چٹانوں پر کندہ کرا کر اپنی سلطنت کے مختلف علاقوں میں نصب کرادیا تھا۔ یہ اصول ہندوستان، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش میں مجموعی طور پر کوئی تیس مقامات پر نصب ملے ہیں۔
پاکستان کے صوبہ سرحد میں مانسہرہ اور مردان کے قریب یہ چٹانیں ملی ہیں۔ جہاں تک مردان کی چٹانوں کا تعلق ہے وہ تو ماہرین کے مطابق پڑھی جاسکتی ہیں لیکن شمالی ضلع مانسہرہ میں ان پر کندہ عبارت متعلقہ حکام کی عدم توجہی کی بناء پر بڑی حد تک مندمل ہوگئی ہے۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے پچیس تیس سال پہلے یہ بڑی حد تک واضح تھیں لیکن اب بڑی مشکل سے پڑھی جاتی ہیں۔
اگرچہ محکمۂ آثار قدیمہ نے ان چٹانوں پر سایبان ڈال دیے ہیں لیکن ان کی عبارت کو ابھارنے کی بھی کوئی سبیل کرنی چاہیئے تاکہ تاریخ اور آثار قدیمہ کے طلبہ بھی اپنی تحقیق اور تفریح کے لئے اسے استعمال کرسکیں۔