Saturday, 25 August, 2007, 11:40 GMT 16:40 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے سکاؤٹس فورس کے ایک کرنل سمیت تین اہلکاروں کو اغواء کر لیا ہے جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کی اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ شائستہ خان نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب دس بجے باجوڑ سکاؤٹس فورس کے لفٹیننٹ کرنل محمد شاہد اپنے دو اہلکاروں کے ہمراہ سکاؤٹس قلعہ کے باہر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اس دوران انہیں چند نامعلوم نقاب پوشوں نے اغواء کر لیا۔
حکام کے مطابق اغواء کاروں کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں اور نہ ہی اب تک کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان نے سکاؤٹس فورس کے سولہ اہلکاروں کو اغواء کر لیا تھا جن میں سے ایک کو ہلاک کر دیاگیا تھا جبکہ پندرہ افراد ابھی تک مقامی طالبان کے قبضہ میں ہیں جن کی رہائی کے لیے مقامی قبائل کے جرگے جاری ہیں۔
![]() | |
| گزشتہ دن شمالی وزیرستان میں دو خودکش حملوں میں سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے |
بنوں پولیس کے مطابق سنچر کو صبح نو بجے کے قریب ایک فوجی قافلہ بنوں سے میرانشاہ جا رہا تھا کہ ایف آر بنوں کے علاقے بکاخیل میں ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکراگئی جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم گاڑی کو نقصان پہنچا ہے۔ فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے قریبی علاقے کو نشانہ بنایا۔
مقامی افراد کے مطابق فوج کی فائرنگ سے ایک منی بس میں سوار دو مسافر اور پیدل راہ گیر گولی لگنے سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد فوجی قافلے پر فائرنگ بھی ہوئی ہے تاہم اس میں فوج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے مگر فائرنگ کے تبادلے میں ایک راہ گیر ہلاک ہوگیا ہے۔ اس کے بعد پورے علاقے میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیا اور بنوں میرانشاہ روڈ پر معمول کی ٹریفک جام ہوکر رہ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ دن بھی شمالی وزیرستان میں دو خودکش حملے ہوئے تھے جس میں سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار ہلاک جبکہ پچیس زخمی ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کی تھی۔